پیغمبر آخر الزماں کی مذہبی لٹریچر میں پیشن گوئیاں

اسلام آباد (قدرت روزنامہ09جنوری2017)اللہ تعالیٰ نے جس قدر نشانات نبی اکرمﷺکی صداقت ثابت کرنے کے لئے ظاہر فرمائے اتنے نشانات اور کس نبی کیلئے ظاہر نہیں فرمائے.قرآن کریم کے مقدس اوراق ان نشانات کی تفصیل سے بھرے پڑے ہیں.

احادیث کے مجموعے اور سیرت کی کتابیں پکار پکار کرکہہ رہی ہیں کہ وہ نبی اُمّی جس کا نام محمدﷺ ہے، خدا کا مقدس اور تمام رسولوں کا سرتاج تھا. جس کی صداقت کیلئے آسمان نے بھی گواہی دی اور زمین نے بھی. فرشتوں نے بھی شہادت کی اور انسانوں نے بھی. حتیٰ کہ بدترین دشمن بھی اس پر نازل ہونے والے کلام کو سن کر بے ساختہ پکار اٹھے کہ یہ کلام انسانی ذہن کی اختراع نہیں ہو سکتا. اگر یہ بیانات اور حضور اکرمﷺکی صداقت کو ثابت کرنے والی تحریریں صرف قرآن و حدیث اور مسلمان مصنفوں کی لکھی ہوئی کتابوں میں محدود ہوتیں تو کہا جا سکتا تھا کہ رسول اکرم کے عقیدت مندوں نے اپنی نبی کی صداقت ثابت کرنے کیلئے یہ عظیم الشان واقعات درج کر دیئے ہیں لیکن آنحضرتؐ کو مبعوث فرمانے والی عالم الغیب ہستی نے آپؐ کی بعثت سے ہزاروں سال قبل آپؐ کی صداقت کا سامان مہیا فرما دیا. حضورﷺکی سچائی اور آپؐ کے نبی برحق ہونے کا یہ سورج کی طرح روشن نشان ہے کہ کوئی آنکھوں والا اس کا انکار نہیں کر سکتا. ہر نبی نے جس کی تعلیمات کا کچھ بھی حصہ محفوظ ہے گواہی دی کہ اے مجھ پر ایمان لانے والو! میرا مشن اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ صحرائے عرب پر وہ سورج طلوع نہ ہو جو ہر تاریکی کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دے. ہندوستان کی وہ عظیم ہستی تھی جو برہمنی سامراج کے شکنجے میں دم توڑتی ہوئی انسانیت کو اس ظلم و ستم سے نجات دلانے کیلئے ظاہر ہوئی. جب وہ اپنا مقدس مشن مکمل کر کے دنیا سے رخصت ہونے والا تھا تو اس نے اپنی زندگی کے جو آخری الفاظ کہے وہ حضوﷺر کی بعثت کے متعلق گواہی پر مشتمل تھے. عین اس وقت جب گوتم بدھ کی سانس اکھڑ رہی تھی نے جو الہامی الفاظ کئے وہ تاریخ نے ہمیشہ کیلئے محفوظ کر لئے. میں پہلا بدھ نہیں ہوں جو زمین پر آیا، نہ ہی میں آخری بدھ ہوں اپنے وقت پر ایک اور بدھ آئے گا.اس پر شاگرد نے سوال کیا ہم اسے کس طرح پہچانیں گے؟ بدھ نے جواب دیا وہ میتریا کے نام سے موسوم ہو گا. الٰہ آباد کے مشہور انگریزی اخبار لیڈر کی 16 اکتوبر 1930ء کی اشاعت میں ایک بدھ عالم کا مضمون شائع ہوا تھا جس میں اس نے میتریا کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھا وہ جس کا نام رحمت ہے.اور قرآن اس ہستی کے متعلق الفاظ استعمال کرتا ہے اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا. ابراہیم علیہ السلام نے رسول اکرمﷺ کی بعثت سے کم و بیش تین ہزار سال قبل عالم انسانی کو یہ نوید سنائی وہ عربی ہو گا، اس کا ہاتھ سب کے خلاف اور سب کا ہاتھ اس کے خلاف ہو گا وہ اپنے سب بھائیوں کے درمیان بودوباش کرے گا(بحوالہ النبی الخاتم مصنفہ سید مناظر احسن گیلانی) موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو یہ مژدہ سنایا تھا کہ میرے بعد ایک نبی مبعوث ہو گا اور اس کی بعثت عرب میں ہو گی بلکہ اس پہاڑ کے نام کا بھی تعین کر دیا گیا جس کی چوٹی پر کھڑے ہو کر آنحضرتﷺ نے پہلی بار اپنی قوم کو مخاطب فرمایا تھا. چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا خدا سینا سے نکلا، سعیر سے چمکا اور فاران ہی کے پہاڑ سے جلوہ گر ہوا، دس ہزار قدسیوں کے ساتھ.(بحوالہ النبی الخاتم مصنفہ سید مناظر احسن گیلانی)یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جس وقت آنحضرت? فاتحِ مکہ کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو دس ہزار مقدس صحابہ آپؐ کے ساتھ تھے. ان الفاظ میں حضوﷺر کی صداقت کے ساتھ ساتھ حضوﷺر کے مقدس صحابہ کی پاکیزگی کی بھی بشارت موجودہے.حضرت داؤد علیہ السلامآپ نے بھی رسول اکرمﷺ کے نزول کی خبر دی اور وحی الٰہی کے تحت اس شہر کا بھی تعین کر دیا جہاں حضور مبعوث ہونے والے تھے. مبارک ہیں وہ جو تیرے گھر میں بستے ہیں، وہ سدا تیری حمد کریں گے وہ بکہ سے گزرتے ہوئے ایک کنواں بناتے ہوئے(استثنا ) ایک معمولی ذہن کا انسان بھی اندازہ کر سکتا ہے کہ بکہ مکہ کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا ، جسے حضرت داؤد علیہ السلام نے خدا کا گھر قرار دیا اور بشارت دی کہ اس سرزمین پر جو خانہ خدا تعمیر کیا جائے گا وہاں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حمد ہو گی. چنانچہ جن لوگوں کو مکہ معظمہ جانے کی سعادت حاصل ہوئی وہ جانتے ہیں کہ روئے زمین پر خانہ کعبہ ہی وہ واحد جگہ ہے جہاں دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں طواف اور ذکرالٰہی نہ ہوتا ہو. حضرت سلیمان علیہ السلام نے بھی اپنے سے پہلے آنے والے انبیاء کی طرح اس مقدس نبی عربی کے نزول کی بشارت دی اور یہ بشارت اس لحاظ سے سب سے زیادہ واضح ہے کہ اس میں اشاروں یا کنایوں سے کام لینے کی بجائے صاف طور پر آنحضوﷺر کا اسم گرامی بھی بتایا دیا گیا ہے. چنانچہ حضرت سلیمانؑ فرماتے ہیں وہ ٹھیک محمدﷺہیں وہ میرے محبوب ہیں میری جان ان پر قربان.(بحوالہ تسبیحات سلیمان) سلسلہ موسوی کے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنے سے پہلے انبیاء کی طرح خاتم النبین? کی بعثت کی بشارت دیتے ہوئے دو ایسے امور کی نشاندہی کی جن سے حضوﷺر کی صداقت کا واضح ثبوت ملتا ہے چنانچہ آپؑ نے فرمایا تھا میری اور بہت سی باتیں کہ میں تمہیں کہوں، پر تم برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ فارقلیط آئے گا تو سچائی کی راہیں بتا دے گا. (بحوالہ انجیل یوحنا) خود آنحضرتﷺ کے زمانہ میں ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے بشارت دی تھی کہ آپؐ اللہ کے نبی ہیں. چنانچہ مشہور واقعہ ہے کہ جب حضوﷺر پر پہلی وحی نازل ہوئی اور حضرت خدیجہؓ آپﷺ کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں جو اپنے زمانے کے انجیل کے بہت بڑے عالم اور نہایت پرہیزگا ر انسان تھے. تو انہوں نے نزول وحی کا واقعہ سن کر بشارت دی کہ آپؐپر نازل ہونے والا فرشتہ وہی تھا جو حضرت موسیٰ ؑ پر نازل ہوا تھا. کاش میں اس وقت زندہ رہوں جب آپؐ کی قوم آپؐ کو مکہ سے جلاوطن کر دے گی.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top