رسول اللہ ﷺ کا اعلان

اسلام آباد (قدرت روزنامہ09فروری2017)ایک دن نبی کریم ﷺ نے منبر پر چڑھ کر اول تو خدا کی حمدوثناء کی پھر فرمایا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہاں ہیں ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں.
 ایک دن نبی کریم ﷺ نے منبر پر چڑھ کر اول تو خدا کی حمدوثناء کی پھر فرمایا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہاں ہیں ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں.
فرمایا میرے پاس آؤ ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے پاس آئے حضور ﷺ نے انہیں سینے سے لگایااور دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا. اور پھر بلند آواز سے فرمایا اے مسلمانوں کے گروہ ! یہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں . مہاجرین اونصار کے سردار اور بزرگ ہیں . یہ میرے سچے دوست اور ہمدرد ہیں. جس وقت لوگوں نے میری تکذیب کی انہوں نے میری تصدیق کی . انہوں نے جان ومال سے میری معاونت کی . میری خاطر بلال کو خریدااور اسے آزاد کرایا تو سن لوکہ ان کے دشمن پر خدا کی پھٹکار ہوا.خدا ایسے شخص سے بیزار ہے اور میں بھی بیزار ہوں تم لوگوں کو چاہیے کہ میرا یہ اعلان سب کو سنا دو. پھرفرمایا . عمر رضی اللہ عنہ کہاں ہیں ؟ حضرے عمر رضی اللہ عنہ بولے حضور ﷺ میں حاضر ہوں فرمایا ! میرے پاس آؤ. آپ رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے پاس پہنچے تو حضور ﷺ نے انہیں بھی سینے سے لگا کر پیشانی پر بوسہ دیا. اور پھر بلند آواز سے فرمایا . اے مسلمانوں کی جماعت ! یہ عمر رضی اللہ بن خطاب ہیں مہاجرین وانصار کے شیخ وبزرگ ہیں یہ وہی عمر رضی اللہ عنہ جن کے دل اور زبان پر خدانے حق نازل فرمایا. اور جو سچی بات کہنے سے نہیں رکتے تو سن لوکہ جوان کادشمن ہے خدااور اس کا رسول اس سے بھی بیزار ہیں اور اس پرخدا کی مار ہو. ازان بعد فرمایا عثمان رضی اللہ عنہ کہا ہے . حضرت عثمان رضی اللہ عنہ عرض کی یارسول اللہ ﷺ میں حاضر ہوں. حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے پاس گئے تو حضور نے انہیں بھی چھاتی سے لگایااورپیشانی کو چوم کر بلند آواز سے فرمایا مسلمانو ! یہ عثمان رضی اللہ عنہ ہیں . مہاجرین وانصار کے شیخ وبزرگ ہیں یہی وہ شخص ہیں جن سے آسمان کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں . یہی وہ ہیں جن کے نکاح میں نے خدا کے حکم سے اپنی دو بیٹیاں دیں اور ان کو اپنا داماد بنایا تو سن لو کہ ان کے دشمن پر بھی خدا کی لعنت . اس کے بعد فرمایا علی رضی اللہ عنہ کہاں ہیں ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ بولے یارسول اللہ میں حاضر ہوں فرمایا میرے پاس آؤ . حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے پاس گئے تو حضور ﷺ انہیں بھی سینے سے لگا یا پیشانی کو چوما اور پھر بلند آواز سے فرمایا اے مسلمانوں کے گروہ ! یہ علی رضی اللہ عنہ ابن ابی طالب ہیں . مہاجرین وانصار کے شیخ وبزرگ ہیں . یہ میرے بھائی ، میرے چچاکے بیٹے اور میرے داماد بھی ہیں . یہ میرے گوشت اور خون کا حصہ ہیں . یہ اللہ کے دشمنوں کیلئے تلوار ہیں اور یہ شیرخدا ہیں . سوسن لوکہ ان کے دشمن پر خدا کی لعنت ہے . اس سے میں بھی بری ہوں اورخدا بھی بری ہے . جوشخص خدااور رسول ﷺ سے بیزاری چاہے وہ علی رضی اللہ عنہ سے بیزار ہو.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top