بات ایک دینار کی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ09فروری2017)تھوڑی دیر بعد جب آپ کو ہوش آیا توکشتی کے مالک نے پھرکرائے کاتقاضہ کیا اور دھمکی دی کہ اگر تم کرایہ نہ دو گے تو تمہیں اٹھا کر دریا میں پھینک دیا جائے گا .

 حکایت اولیاء کرام رحمتہ اللہ علیہ : حضرت مالک بن دینار رحمتہ اللہ علیہ ایک مرتبہ کشتی میں دریا کا سفر کررہے تھے .
جب کشتی دریا کے عین وسط میں پہنچی توکستی کے مالک نے مسافروں سے کرایہ وصول کرنا شروع کردیا. جب وہ کرایہ لینے حضرت مالک بن دینار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس پہنچے تو آپ کے پاس کرایہ دینے کے لئے کوئی رقم نہ تھی . ملاحوں نے یہ دیکھ کر آپ سے جھگڑنا شروع کردیا. غصے میں بے قابو ہوکر کشتی کے مالک نے آپ کو پیٹنا شروع کردیا. یہاں تک کہ آپ بے ہوش ہوگئے . تھوڑی دیر بعد جب آپ کو ہوش آیا توکشتی کے مالک نے پھرکرائے کاتقاضہ کیا اور دھمکی دی کہ اگر تم کرایہ نہ دو گے تو تمہیں اٹھا کر دریا میں پھینک دیا جائے گا . یہ بات سن کر حضرت مالک رحمتہ اللہ علیہ نے ایک نگاہ دریا کی طرف ڈالی . دیکھتے دیکھتے ہی دریا کے پانی میں ہلچل سی پیدا ہوئی اورپھر چند لمحوں بعد کشتی میں سوار تمام لوگوں نے ایک حیرت انگیز منظر دیکھا . انہوں نے دیکھا کہ ہزاروں مچھلیاں اپنے منہ میں سونے کے دینار پکڑے ہوئے پانی کی سطح پر ظاہر ہوئیں . حضرت مالک رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ایک مچھلی کے منہ سے سونے کا دینا پکڑا اور مالک کے حوالے کردیا . کشتی کے مالک اور تمام ملاحوں نے جب یہ منظر دیکھا تو وہ فوراََ آپ کے قدموں میں گر کر معافی مانگنے لگے . آپ خاموش رہے اور اسی وقت کشتی سے باہر نکل کر پانی پر چلنا شروع کردیا اور اسی دن آپ کا نام مالک بن دینار پڑگیا .
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top