مقام ابراہیم علیہ السلام کا فریم

اسلام آباد (قدرت روزنامہ09فروری2017)سب سے پہلے مقام ابراہیم علیہ السلام کو امیرالمومنین محمد الھدی العباسی نے سونے سے مڑھوایا، یہ واقعہ 161ھ کا ہے کیونکہ اسے معلوم ہواتھا کہ مقام ابراہیم علیہ السلام پر عرصہ دراز گذرنے کی وجہ سے اس کے پھٹ جانے کا ڈر ہے تو اس نے ہزار دینار بھیجے جنہیں پگلا کر مقام ابراہیم علیہ السلام پر چڑھا دیا گیا . پھر 179 ھ میں ہارون الرشید نے دیکھا سونے کا فریم ڈھیلا پڑگیا ہے تو اس نے اس کی اصلاح کا حکم دیا.
مقام ابراہیم علیہ السلام میں ہیرے کے ذریعہ سوراخ کیاگیا اوراس میں سونا پگھلا دیا گیا، پھر امیر المومنین جعفر المتوکل نے اس سونے پر اچھا عمدہ سونا چڑھوایااور خوب مضبوط کرادیا. یہ واقعہ 236ھ کا ہے . بیت اللہ کے خادموں نے مکہ کے گورنر علی بن الحسن العباسی سے ذکر کیا کہ مقام ابراہیم کے تلف ہو جانے کا خطرہ ہے تو اس نے دوفریم بنوائے ایک سونے کا اور ایک چاندی کا. یہ واقعہ محرم 256 ھ کا ہے ، اس نے مقام کودفتر امارت میں منگایا اور گندھک کے ذریعہ ایسی جڑی بوٹیاں پگھلائی گئیں جن سے پتھر جڑگیا ورنہ اس سے قبل اس کے سات ٹکڑے تھے . اور امیر المومنین المعتمد العباس کے غلام بشر نے اُسے مضبوطی سے باندھا، پھر اس پردونوں طوق چڑھائے گئے اور اپنے مقام پر رکھ دیا گیا. یہ واقعہ پیر کے دن 8ربیع الاوّل 256 میں ہوا . فاسی نے بیان کیا ہے کہ فاکھی کے بیان کاخلاصہ ہے . الحاف فضلاء الزمن کے منصف نے ذکر کیا ہے کہ ابراہیم بیگ نے مقام ابراہیم کی اصلاح وتجدید کی اور اس کے سونے اور چاندی کی تجدید کی اورسونے اور چاندی کے درمیان رانگ ڈالویا یہ واقعہ 1112 ھ کا ہے .
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top