شوہر بیوی کے حقوق نہ ادا کرے تو نکاح نہیں ٹوٹتا لیکن چاہئے کہ طلاق دے دے

ni14

اسلام آباد(قدرت روزنامہ08جنوری2017)شوہر بیوی کے حقوق نہ ادا کرے تو نکاح نہیں ٹوٹتا لیکن چاہئے کہ طلاق دے دے جو شخص بیوی کے حقوق ادا نہیں کرسکتا اس کے لئے اس عفیفہ کو قید رکھنا ظلم ہے، اس لئے اگر بیوی اس شخص سے آزادی چاہتی ہو تو بیوی کے خاندان کے لوگوں کو چاہئے کہ شرفاء کے ذریعہ شوہر سے کہلائیں کہ اگر وہ بیوی کے حقوق ادا نہیں کرسکتا تو اسے طلاق دے دے. محض شوہر کے پاگل ہوجانے سے نکاح نہیں ٹوٹ جاتا، البتہ اگر عورت کی درخواست پر عدالت فسخِ نکاح کا فیصلہ کردے تو خاص شرائط کے ساتھ فیصلہ صحیح ہوسکتا ہے، اور عورت عدّت گزار کر دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے.

آپ نے پاگل کی بیوی سے بطورِ خود جو نکاح کرلیا تھا یہ نکاح صحیح نہیں ہوا، آپ کو اس سے فوراً علیحدگی اختیار کرلینی چاہئے اور اس غلط روی پر دونوں کو توبہ بھی کرنی چاہئے، یہ عورت پہلے شوہر کے نکاح میں ہے، اس سے طلاق لینے اور عدّت گزارنے کے بعد دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے. گناہ سے نکاح نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر کوئی شخص کسی حرامِ قطعی کو حلال کہے تو اس سے وہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے اور اس کا نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے. بیوی کو بہن کہہ دینے سے نکاح نہیں ٹوٹتا، مگر ایسے بیہودہ الفاظ بکنا ناجائز ہے. اولاد سے گفتگو میں بیوی کو ”اَمی“ کہنے سے بچے کی اَمی مراد ہوتی ہے، اپنی نہیں، اور بیوی کو ”اَمی“ کہنا جائز نہیں، لیکن ایسا کہنے سے نکاح نہیں ٹوٹتا.

بیوی کوبار بار ”بیٹی“ کہہ کر پکارنے سے نکاح تو نہیں ٹوٹتا، مگر بڑی لغو حرکت ہے. سالی کے ساتھ منہ کالا کرنے سے بیوی کا نکاح نہیں ٹوٹتا. عورت کا کسی کے ساتھ منہ کالا کرنے سے نکاح نہیں ٹوٹتا، اس لئے نکاح باقی ہے. بیوی کا دُودھ پینا حرام ہے، مگر اس سے نکاح فسخ نہیں ہوتا، کیونکہ دُودھ کی وجہ سے جو حرمت پیدا ہوتی ہے، اس کے لئے یہ شرط ہے کہ بچے نے دُودھ دو، ڈھائی سال کی عمر کے اندر پیا ہو، بعد میں پئے ہوئے دُودھ سے حرمت پیدا نہیں ہوتی. جس لڑکی کو ناجائز حمل ہو، حمل کی حالت میں بھی اس کا نکاح صحیح ہے، اس لئے اس کے نکاح میں شرکت کرنے سے کسی کا نکاح نہیں ٹوٹا. داڑھی اسلام کا شعار اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ واجبہ ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت اور اسلام کے کسی شعار کا مذاق اُڑانا کفر ہے، اس لئے میاں بیوی میں سے جس نے بھی داڑھی کا مذاق اُڑایا وہ ایمان سے خارج ہوگیا اور اس کا نکاح ٹوٹ گیا، اس کو لازم ہے کہ اس سے توبہ کرے، اپنے ایمان کی تجدید کرے اور دوبارہ نکاح کرے. میاں بیوی کے الگ رہنے سے نکاح نہیں ٹوٹتا، اس لئے اگر شوہر نے طلاق نہیں دی تو وہ دونوں بدستور میاں بیوی ہیں. ”میں کافر ہوں“ کا فقرہ اگر بطور سوال کے ہو، یعنی ”کیا میں کافر ہوں“ مطلب یہ کہ ہرگز نہیں. تو اس صورت میں ایمان میں فرق نہیں آیا، نہ تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہے. لیکن اگر غصّے میں یہ مطلب تھا کہ: ”میں کافر ہوں اور تم مجھے نماز کے لئے نہ کہو“ تو ایمان جاتا رہا اور نکاح دوبارہ کرنا ہوگا. پہلی بیوی اگر نکاح ثانی کی اجازت نہ دے اور جھوٹ کا سہارا لے کر نکاح ثانی کر لیا ہو تو جھوٹ جیسے گناہِ کبیرہ کے مرتکب ضرور ہوئے ہیں، اس سے توبہ کرنی چاہئے، مگر نکاح جائز ہے. جس دُودھ کے پینے سے نکاح حرام ہوتا ہے وہ ہے جو بچے کو دو سال کی عمر کے اندر پلایا جائے، بڑی عمر کے دو آدمیوں کے درمیان حرمت ثابت نہیں ہوتی. اس لئے عوام کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ میاں بیوی کے ایک دُوسرے کا جھوٹا کھانے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے. بیوی اگر شوہر کو کہے: ”تو مجھے کتے سے بُرا لگتا ہے“ بیوی کے ایسے الفاظ بکنے سے نکاح نہیں ٹوٹتا، لیکن وہ گناہگار ہوئی، ایسے الفاظ سے توبہ کرنی چاہئے:.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top