دور جہالت کے انسان کی بات کریں تو ایسی ایسی مثالیں سننے کو ملتی ہیں جنہیں پڑھایا نا جائے تو ہمارے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ07جنوری2017)دور جہالت کے انسان کی بات کریں تو ایسی ایسی مثالیں سننے کو ملتی ہیں جنہیں پڑھایا نا جائے تو ہمارے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس دور کے انسانوں کی عقل کاماتم کرنے کو جی چاہتاہے. دور جہالت کے لوگ اس قدر جاہل اور ظالم تھے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو بدشگنی کی علامت سمجھتے تھے اور انہیں زندہ دفن کر دیتے تھے.

تاریخ میں ہمیں یہ بھی ملتا ہے کہ جب یہ سنگ دل اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کررہے ہوتے تھے تو ان کی آنکھوں سے آنسو بھی بہہ رہے ہوتے تھے.جیسے کہ حضرت عمرؓ اکثر فرماتے تھے کہ دور جہالت کی دو باتیں ایسی ہیں جن میں سے ایک کو یاد کرتا ہوں تو مسکرانے لگتا ہوں لیکن جیسے ہی مجھے دوسری بات یاد آتی ہے تو میری آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگتے ہیں حضرت عمرؓ کہتے ہیں دور جہالت میں ٗ میں کھجور کا بت بنا کر اس کی پوجا کرتا تھا جب کھانے کو کچھ نہ ملتا تو اسی بات کو کھا لیتا اور بعد میں دوسرا بت بنالیتا یہ بات یاد آتی ہے تو بے ساختہ ہنس پڑتا ہوں لیکن جس بات پر میری آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں وہ کچھ یوں ہے کہ میں دور جہالت میں اپنی ایک بیٹی کو زندہ دفن کررہا تھا تو وہ میری داڑھی سے گرد صاف کررہی تھی جس پر مجھے اپنی بیٹی پر بڑا پیار آیا لیکن اس کے باوجود میں نے اس کو دفن کر دیا.ہمارے پیارے نبیﷺ نے دین اسلام کی تبلیغ کے دوران دور جہالت کی تمام رسومات کو ترک کیا اور بیٹیوں کو اعلیٰ اور ارفع مقام عطا کیا جس کی مثال اس سے قبل کہیں نہیں ملتی تھی. ہمارے پیارے نبیﷺ نے غیر اسلامی رسومات کو ترک کر کے مسلمانوں کو نئے سرے سے زندگی گزارنے کے طریقے سیکھائے اور -اپنی زندگی لوگوں کیلئے وقف کرنے کا درس دیا

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top