حجر اسماعیل علیہ السلام اور ان کی قبر

اسلام آباد (قدرت روزنامہ07فروری2017)حجراسماعیل علیہ السلام اس دیوار کوکہتے ہیں جو قد آدم سے کم پرنالہ کی جانب ، نصف دائرے کی شکل میں ہے ، یہ مقام خانہ کعبہ کے اندر شمار ہوتا ہے . حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ! کہ ” انہوں نے کہا کہ میں چاہتی تھی کہ خانہ کعبہ کے اندر جاکر نماز پڑھوں تو رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور
 محمد طاہر الکردی : حجراسماعیل علیہ السلام اس دیوار کوکہتے ہیں جو قد آدم سے کم پرنالہ کی جانب ، نصف دائرے کی شکل میں ہے ، یہ مقام خانہ کعبہ کے اندر شمار ہوتا ہے .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ! کہ ” انہوں نے کہا کہ میں چاہتی تھی کہ خانہ کعبہ کے اندر جاکر نماز پڑھوں تو رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حجر کی طرف لے گئے اور فرمایا یہاں نماز پڑھ لے ، یہ بھی خانہ کعبہ کا حصہ تھا مگر تیری قوم نے جب خانہ کعبہ کو بنایا تو اسے کعبہ سے خارج کردیا . اسے حطیم بھی کہتے ہیں، یہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام اوران کی والدہ کی قبر ہے جیسا کہ اکثر علماء نے اس امر کاذکر کیا ہے . یہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی کنواری لڑکیاں بھی دفن ہیں جیسا کہ ازرقی نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے . ازرقی لکھتا ہے کہ زہری نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے منبر پر کہتے سنایہ جو اُبھرے ہوئے مقامات ہیں. یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بیٹیوں کی قبریں ہیں یعنی رکن شامی کی جانب. ارزقی لکھتا ہے کہ ” مکہ میں حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ہود علیہ السلام ، حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام کا انتقال ہوا. ان کی قبریں زمزم اور حجر کے درمیان ہیں . بعض علما ء نے کہا ہے کہ ہود اور صالح تو حج ہی نہیں کرسکے کیونکہ ان کی قوم نے ادھر کارخ نہ کرنے دیا، حدیث میں آیا ہے جب کسی نبی کی اُمت ہلاک ہوجاتی تو وہ مکہ آجاتا اور یہیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مصروف عبادت ہو جاتا حتیٰ کہ یہیں وفات پاجاتا . ازرقی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ” مبارک بن حسان الانماطی نے بیان کیا ہے کہ میں نے عمر بن عبدالعزیزکو حجر میں دیکھا تو یہ کہتے سنا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے مکہ کی گرمی کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تیرے لیے حجر میں قیامت تک کے لیے ٹھنڈی نسیم جاری کردوں گا. حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اسی جگہ انتقال ہوا . خالد نے بیان کیا ہے کہ میزاب کعبہ سے لے کر حجر کے مغربی دروازے تک کسی مقام میں آپ کی قبر ہے علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا حضرت اسماعیل علیہ السلام یااُن کے کنبہ کا کوئی فرد حجر میں دفن ہوا ؟ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ اور ان کی بیٹیوں کی قبریں حجر میں ہیں. آخر اس بات سے کیاامر مانع ہے کہ اللہ کانبی ایک مقدس ترین مقام میں دفن کردیا گیا ہو جبکہ یہ لوگ سب سے پہلے مکہ کو آباد کرنے والے تھے اور انہوں نے ہی بیت اللہ بنایا تھا خصوصاََ جبکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ بنائے کعبہ سے قبل مری تھیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حجر کو گھر کے پاس بنایا تھا جس کی چھت پیلو کی تھی اور اس میں بکریاں بند ہوتی تھیں . حجر ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بکریوں کے لیے باڑہ تھا جیسا کہ ازرقی نے اپنی تاریخ میں بیان کیا ہے . گوہیں مطاف کے پاس کسی کادفن ہونا عجیب سا معلوم ہوتا ہے بلکہ مسجد حرام میں بھی کسی کا دفن کیا جانا عجیب معلوم ہوتا ہے کیونکہ آج کل یہاں رات ، دن ، طواف کرنے والے نماز پڑھنے والے اور حج کرنے والے آتے رہتے ہیں، ہماری شریعت بھی مسجد کو قبرستان بنانے کی مخالف ہے اور مسجد میں دفن کرنے کے بھی خلاف ہے . حضرت اسماعیل علیہ السلام سے پہلے مکہ میں کوئی آباد نہ تھا. قبیلہ جرہم جب ہی وہاں آکر آباد ہوا جب انہوں نے آپ کو اپنی والدہ کے ساتھ دیکھا ، تو حضرت اسماعیل علیہ السلام ذبیح اللہ ، ابن خلیل علیہ السلام اللہ بیت اللہ کے پاس کیوں نہ دفن کیے گئے ہوں گے مگر اس کے متعلق کوئی تصریح نہیں ہے . علماء جو یہ کہتے ہیں کہ کیا حجر میں حضرت اسماعل علیہ السلام کی قبر ہے ؟ ان کا یہ سوال دراصل اُس حجر کے بارے میں ہے اہل قریش نے خانہ کعبہ سے خارج کردیا تھا، اس طرح حجر وسیع ہوگیا ، حالانکہ اس سے پیشتر تنگ تھا اور اس کی ایک جانب خانہ کعبہ سے خارج ہوگئی حالانکہ کعبہ میں داخل تھی . ایسا معلوم ہوتا ہے دراصل لوگوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو خانہ کعبہ کے اندر دفن کیا تھا. بنائے قریش کے وقت خانہ کعبہ کا کچھ حصہ خارج کردیا گیا اوراس میں آپ کی قبر تھی . اسی لیے علماء یہ سوال قائم کرتے ہیں کہ حجر کے اندر آپ کی قبر ہے یا خانہ کعبہ میں ہے .
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top