خزانہ خانہ کعبہ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ06فروری2017)جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی توخانہ کعبہ کی داخلی جانب میں داہنے ہاتھ پر ایک گہرا گڑھاکنوئیں کی مانند بنایا . اس کی گہرائی تین گزتھی ، اس میں سونا ، چاندی ، زیورات اور خوشبو وغیرہ ڈالی جاتی تھی.
 محمد طاہر الکردی: جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی توخانہ کعبہ کی داخلی جانب میں داہنے ہاتھ پر ایک گہرا گڑھاکنوئیں کی مانند بنایا . اس کی گہرائی تین گزتھی ، اس میں سونا ، چاندی ، زیورات اور خوشبو وغیرہ ڈالی جاتی تھی . اسی گڑھے کو خزانہ خانہ کعبہ کہتے ہیں، جب ، غبغب اور اخسف بھی اسی کو کہتے ہیں کعبہ کے مال کو ابرق کہتے تھے . جب قریش نے بعثت نبوی ﷺ سے پانچ سال قبل اس کی تعمیر کی تو اس غار کو بحالہ باقی رکھا اوراس پر ہبل بت کھڑا کردیا. یہ قریش کا سب سے بڑا بت تھا. عمروبن لحی اسے (ہیت ) سرزمین جزیرہ سے لایا تھا اور اس گڑھے پر اسے قائم کردیا تھا. اس نے لوگوں سے کہا کہ اس کی عبادت کرو. یہ واقعہ قریشی تعمیر سے قبل کا ہے . جب قریش نے تعمیر کی تو اس بت کو حسب دستور اس کے مقام پر رکھ دیا. ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی مورخ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیر میں اس غار کا کوئی ذکر نہیں کرتا. نہ حجاج کی تعمیر میں اس کا ذکر ہے کہ آیاانہوں نے اسے باقی رکھا یا بند کردیا. ہماری رائے یہ ہے کہ غار حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیر کے وقت بند کردیا گیا . حجاج کی تعمیر میں بھی بند رہا. اور اب تک ایسا ہی ہے کیونکہ خانہ کعبہ کی اندرونی زمین باہر کی زمین سے بلند ہے اور کعبہ کی چوکھٹ کے برابر بلند ہے ، اندر حجاج کے دور کا پتھر کا فرش تھا. سب سے پہلے سنگ مرمر کا فرش ولید بن عبدالملک نے کرایا . جب یہ گڑھا بند کردیا گیا تو یہ خزانہ شیبہ بن عثمان بن ا بی طلحہ کے گھر منتقل کر دیا گیا. اس کے بعد کے ہدیے اسی کے گھر رکھے جانے لگے . یہ گھر مسجد حرام کے قریب تھا. جیسے آج کل باب السلام کہتے ہیں یہی باب بنی شیبہ تھا. جب حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے تعمیر کعبہ کا ارادہ کیا تو خزانہ خانہ کعبہ کو نکال کر شیبہ بن عثمان کے گھر میں رکھ دیا . جب تبت کاایک راجہ اسلام لایا تو اس نے اپنا وہ بت جس کی وہ عبادت کیاکرتا تھا خانہ کعبہ کو بطور ہدیہ بھیج دیا. یہ بت خالص سونے کا تھا، جواہر ویا قوت کا تاج اس کے سر پر دھرا تھااور وہ چاند کے تخت پر بیٹھا تھا جب یہ سب چیزیں مکہ پہنچیں تو وہاں تین دن تک عام نمائش کے لئے اسے رکھ دیا گیا . پھر متولی کعبہ کو دے دیا گیا. انہوں نے شیبہ بن عثمان کے گھر میں خزانہ خانہ کعبہ میں ڈال دیا. کتاب کے آخر میں ہم اس قصے کو بیان کریں گے . محمد بن جعفربن محمد نے خانہ کعبہ کے مجاوروں سے پانچ ہزار دینار ادھار لئے تاکہ ابن مقنع کے فتنہ کا قلع قمع کریں، یہ قرض امیرالمومنین مامون الرشید نے ادا کیا. مجاوروں نے یہ دینار وصول کرکے خزانہ کعبہ میں داخل کردیئے . بنوعبدالداربن قصی بن کلاب ، دارالندوہ کے مالک تھے اورشیبہ بن عثمان کا گھر دار الندوہ کے برابر تھا. خزانہ کعبہ اسی گھر میں تھا . الغرض خزانہ خانہ کعبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے کعبہ کے غار میں تھا . حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے بند کردیا اور خزانہ کو شیبہ بن عثمان کے گھر منتقل کر دیا. لہٰذا خانہ کعبہ کے تحفے وہیں محفوظ کئے جانے لگے . آج کل خانہ کعبہ کوئی خزانہ ہے نہ مال . صرف وہ ہدیئے جو اس کی چھت سے متعلق ہیں باقی ہیں ، ایک طویل مدت سے ہم نے ابھی نہیں سنا کہ کسی نے خانہ کعبہ کو کوئی ہدیہ بھیجا ہو. ہمارے خیال میں سب سے آخری ہدیہ 1094 ھ میں آیا تھا . یہ پانچ قندیل تھے جو چھت میں متعلق کردیئے گئے .
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top