بچھو کی پیدائش

اسلام آباد (قدرت روزنامہ06فروری2017)حضرت سعدی فرماتے ہیں. میں نے کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ بچھو کی پیدائش عام جانوروں کی طرح نہیں ہوتی ، اپنی ماں کے پیٹ میں جب یہ کچھ بڑا ہوجاتا ہے تو اندر سے پیٹ کو کاٹنا شروع کردیتا ہے ، اور یوں سوراخ کرکے باہر آجاتا ہے .
 شرف الدین شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ : حضرت سعدی فرماتے ہیں. میں نے کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ بچھو کی پیدائش عام جانوروں کی طرح نہیں ہوتی ، اپنی ماں کے پیٹ میں جب یہ کچھ بڑا ہوجاتا ہے تو اندر سے پیٹ کو کاٹنا شروع کردیتا ہے ، اور یوں سوراخ کرکے باہر آجاتا ہے . سعد ی فرماتے ہیں : میں نے یہ بات ایک مرددانا کے سامنے بیان کی توانہوں نے فرمایا : میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات درست ہی ہوگی . بلکہ اسے درست ہونا چاہئے ، بچھو کی فطرت اور عادت پر غور کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے پہلے دن سے برائی ہی کی ہوگی ، یہی باعث ہے کہ ہر شخص اس سے نفرت کرتا ہے اور دیکھتے ہی مارڈالتا ہے . جو شخص اپنوں سے دفا نہیں کرتا، وہ کبھی غیر کا بھی نہیں ہوتا، عقل مند کے لئے اشارہ ہی کافی ہے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، جن کی فطرت ہی میں برائی کوٹ کوٹ کر بھری ہے . ایسے ضرررساں لوگ بغیر کسی مقصد کے دوسروں کو نقصان ہی پہنچاتے رہتے ہیں . حضرت سعدی نے اس حکایت میں بچھو کی پیدائش کی مثال دے کر بدفطرت لوگوں سے علیحدہ رہنے کی تلقین کی ہے . انسان کی نفسیات کا مسئلہ بے حد الجھا ہوا ہے . یہ بات آسانی سے سمجھ میں نہیں آسکتی کہ کوئی شخص شریف اور کوئی بدفطرت وبدخصلت کیوں ہے ، لیکن اس بات سے کسی طرح بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انسانوں میں یہ فرق موجود ہے ، اور اہل عقل کے لیے لازم ہے کہ اس فرق کو ہر معاملے میں ملحوظ رکھیں .
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top