دریائے سندھ کے بیچوں بیچ حضرت خضر علیہ السلام کا آستانہ

تحریر: عباس نقوی اسلام آباد (قدرت روزنامہ06فروری2017)دریائے سندھ کے عین درمیان میں اللہ کی قدرت سے زندہ نبی حضرت خضرعلیہ السلام سے منسوب ایک آستانہ ہے جسے مسلمان خواجہ خضر اور ہندو جند پیر کا آستانہ کہتے ہیں‘ ہندو اور مسلمان اس جگہ سے یکساں عقیدت رکھتے ہیں. یوں تو سندھ دھرتی اولیا اللہ کے نشانات کی امین ہے جا بجا اللہ کے نیک بندوں کے مزار، مقبرے اور آستانے ملتے ہیں، سکھر سندھ کا تیسرا بڑا شہر ہے، سکھر کا قدیمی نام ارورہےاور اسے بعض مقامات پربکھر کہا جاتا ہے.

سکھر کا ایک نام سکھارو بھی ملتا ہے سندھی میں جس کے معنی ”اعلیٰ“ کے ہیں.1930میں برطانوی حکومت نے سکھر کے مقام پر ایک نہایت شاندار پُل تعمیر کیا جو آج بھی یادگار ہے. مسلمانوں کے لئے سکھر میں موئے مبارک سرکارِ دو عالم (1545)، پیر جو گوٹھ، صدر الدین بادشاہ کا مقبرہ،شاہ خیر الدین جیلانی کا مقبرہ وغیرہ مذہبی و تاریخی مقامات ہیں جبکہ ہندووں کے لئے بھی مذہبی اعتبار سے شیو مندراورسادھو بیلہ تاریخی اہمیت کی حامل ہیں.سکھر کے مقدس مقامات میں سے ایک مقام خواجہ خضربھی ہے جو ہندؤں اورمسلمانوں دونوں کے لئے مرجعِ خلائق ہے.
روہڑی کے مخالف سمت دریائے سندھ میں ایک چھوٹا جزیرہ یعنی قریب آدھا ایکڑ کی زمین پانی سے اوپر ابھری ہوئی ہے، یہ جگہ خواجہ خضر یا زندہ پیر کے نام سے مشہور ہے.اپریل کے مہینے میں اس جگہ دنیا بھر سے مسلمان اور ہندوزیارت کو آتے ہیں. مسلمانوں میں یہ جگہ خواجہ خضر اور ہندووں کے لئے جند پیر (زندہ پیر) کے آستانے کی حیثیت سے اہمیت کی حامل ہے.
یہ جگہ معروف نبی حضرت خضرعلیہ السلام کے آستان کے طور پرمشہورہے ،اس آستانے کاقیام 341ھجری یا 952ءعیسوی میں عمل میں آیا اور اس وقت تک قریب ایک ہزار چھیاسٹھ برس ہوگئے. یہاں کوئی قبر نہیں ہے کیوں کہ حضرت خضر علیہ السلام زندہ نبی شمار ہوتے ہیں ،اوردنیا بھرمیں پانیوں کے تمام سلسلوں پر حکمران ہیں،حضرت خضر علیہ السلام سفر کرنے والوں کو راستہ دکھانے پر بھی معمور ہیں. آج سے ایک ہزار چھیاسٹھ برس قبل 952عیسوی میں شاہ حسین (سیف الملوک) نامی مسلمان دہلی سے اپنے کنبے کے ساتھ حج کے لئے پانی کے راستے مکہ کی جانب جارہے تھےکہ روہڑی سے 8کلومیٹر کے فاصلے پرالورکے مقام پر ان کی کشتی یا بیڑہ آکررُکا،اس وقت یہاں راجہ دِلّوراج یا دلو رائے نامی حکمران تھا، اُسے جب اس کنبے کی آمد کا معلوم ہوا اور پتہ چلا کہ ان کے ساتھ ایک حسین و جمیل لڑکی بدیع الجمال بھی ہے تو اس کی نیت خراب ہوئی اور اس نےاس خانوادے سے بدیع الجمال (بدیع الجمال شائد اصل نام نہیں ہے بلکہ اس لڑکی کے حسن کے اعتبار سے عرفیت ہے)سے شادی کرنے کا مطالبہ کرڈالا. روایات میں ہے کہ شاہ حسین نے جواباً کہا کہ ہم مسلمان ہیں اور تم ہندو ہو ہم تمہارے ساتھ کیسے شادی کر سکتے ہیں.راجہ نے کہا کہ صبح مجھے جواب دو ورنہ مَیں لڑکی کو زبردستی حاصل کر لوں گا.
    KK--3   قافلہ بہت پریشان ہوا اور اس نے ساری رات عبادت کی، دُعائیں کی، اللہ رب العزت نے خواجہ خضر علیہ السلام کو ان کی مدد کے لئے بھیجا.خواجہ خضر نے اس کنبے کو بشارت دی کہ کشتی کا رسہ کھول دو. جوں ہی رسہ کھُلا دریائے سندھ کا بہاؤ تبدیل ہو گیا اور کشتی روہڑی کے کنارے کی جانب بڑھ گئی. راتوں رات شاہ حسین اور ان کا کنبہ اس جگہ سے محفوظ نکل گئے. اس واقعے کے بعد سے ان ہی شاہ حسین نے روہڑی کے قریب اس چھوٹے سے جزیرے پر یادگار آستانہ قائم کیا. اس وقت اس جگہ کے متولی جناب میاں اقبال قریشی صاحب ہیں، جو واپڈا سے ریٹائرڈ انجینئرہیں اور اس آستانے کے بانی کی تیسویں پشت سے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ڈھائی کمیونٹی کے مرشد ہیں یعنی مسلمان، ہندو اورآدھی کمیونٹی راجستھان والے ہیں. اس مقام پر ایک جگہ نماز پڑھنے کے لئے مصلہ بچھا رکھا ہے، ساتھ ہی علَم مبارک ایستادہ ہے. ایک جانب ایک آستانہ ہے جس کے چاروں کونوں پر علم لگے ہوئے ہیں جبکہ تھوڑے فاصلے پر ایک جانب ہندووں کے لئے عبادت یا اشنان (نہانے) کی جگہ مختص ہے.مسلمان یہاں دو رکعت نمازِحاجات بجا لاتے ہیں اور ہندو اشنان کرتے ہیں. ایک ہزار سال قدیم یہ عقیدت گاہ نہ صرف سندھ کی تاریخ کا اہم جزو ہے بلکہ سندھ کی مذہبی ہم آہنگی اور رواداری پر مبنی روایات کی بھی امین ہے‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے سرکاری سطح پر توجہ دی جائے اور ہندو مسلم اور راجھستانی زائرین کے لیے یہاں انتظامات کیے جائیں کہ وہ باآسانی یہاں پہنچ سکیں اور اپنی اپنی عقیدت کے مطابق عبادات انجام دیں سکیں...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top