جنت میں آدم علیہ السلام کی قیام کی مدت

اسلام آباد (قدرت روزنامہ05فروری2017)صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت بیان کی گئی ہے جس کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام جمعہ کے روز پیدا ہوئے ‘ اسی دن جنت میں داخل کئے گئے اور اسی دن جنت سے نکالے گئے.
 صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت بیان کی گئی ہے جس کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام جمعہ کے روز پیدا ہوئے ‘ اسی دن جنت میں داخل کئے گئے اور اسی دن جنت سے نکالے گئے.
اگر ہم یہ مان لیں کہ وہ دن ہمارے زمینی دن کے برابر تھا تو ثابت ہوا کہ دن کا کچھ حصہ آپ علیہ السلام نے جنت میں گزارا . اگر ہم یہ کہیں کہ جمعہ کے دن پیدا ہوئے اور اس جمعہ کے علاوہ کسی دوسرے جمعہ کو جنت میں داخل ہوئے اور یایہ مان لیں کہ وہ دن ہمارے زمینی دن کی طرح کچھ گھڑیوں پر مشتمل نہیں تھا بلکہ ایک دن چھ ہزارسال کے برابر تھا جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی ثابت ہے جو پہلے بیان ہوچکی ہے . ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام جمعتہ المبارک کی آخری ساعتوں میں پیدا ہوئے اور وہاں کی ایک ساعت زمینی راسی سال چارہ ماہ کے برابر ہے . آپ علیہ السلام روح پھونکے جانے سے پہلے ایک جسد خاکی تھی اور اس حالت میں آپ علیہ السلام چالیس سال تک رہے اور جنت سے نکالے جانے سے قبل 43 سال 4ماہ جنت میں مقیم رہے .
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top