وہ کون ہے؟

اسلام آباد (قدرت روزنامہ05فروری2017)کچھ مجذوب ایسے بھی ہوتے ہیں‘ جو انتظامی امور پر مامور ہوتے ہیں حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز کے پاس ایک آدمی آیا اس نے کہا حضرت! آج کل تو حالات بہت ہی ڈھیلے ہو گئے ہیں کوئی نظم و نسق اور قانون نہیں ہے. سب لوگ من مرضی کرتے پھرتے ہیں‘ حضرت نے فرمایا‘ ہاں بھئی! جو بندہ انتظامی امور پر متعین ہوا ہے وہ طبیعت کے لحاظ سے بہت ہی ڈھیلا ہے اس نے پوچھا حضرت! وہ کون ہے؟

حضرت نے فرمایا وہ جامع مسجد کے سامنے خربوزہ بیچ رہا ہے وہ آدمی گیا تو دیکھا کہ ایک سادہ سا آدمی بیٹھا ہوا خربوزے بیچ رہا ہے اس نے کہا مجھے خربوزے خریدنے ہیں وہ کہنے لگا خرید لیں.

اس آدمی نے کہا کہ چکھنے کے بعد خریدوں گا وہ کہنے لگا چکھ لو‘ اب اس نے ایک خربوزہ کاٹا‘ چکھا اور کہنے لگا کہ یہ تو مجھے پسند نہیں ہے‘ دوسرا کاٹا اور کہا پسند نہیں ہے حتیٰ کہ سارے خربوزے کاٹ کر چکھے اور کہا کہ مجھے تو کوئی بھی خربوزہ پسند نہیں آیا‘ اس نے کہا اچھا اگر کوئی بھی پسند نہیں تو چلے جاؤ‘ وہ کہنے لگا بالکل ٹھیک نظام بھی ایسا ہی ہے کچھ دن گزرے تو نظام ایسا ٹھیک ہوا کہ حکام سخت ہو گئے وہ پھر کہنے لگا نظام بہت سخت ہو چکا ہے. حضرت فرمانے لگے‘ میاں آج کل بڑا سخت بندہ آیا ہے اس نے پوچھا حضرت وہ کون ہے؟ حضرت نے فرمایا وہ فلاں جگہ پر مشک سے پانی لاتا ہے اس نے کہا اچھا جا کر دیکھتا ہوں گرمی کا موسم تھا وہ شخص گیا تو دیکھا کہ ایک آدمی دوپہر کے وقت پانی پلانے کیلئے مشک بھر کر کھڑا ہے اس نے اس سے کہا‘ جی پانی پلا دیں اس نے پیالہ بھر کر دے دیا‘ اب اس شخص نے پیالے میں پانی کو دیکھا تو کہنے لگا کہ یہ پانی ٹھیک نہیں ہے چنانچہ یہ کہہ کر اس نے پیالہ کو انڈیل دیا اور کہا پیالے میں اور پانی ڈال دو‘ وہ کہنے لگا کہ پہلے اس پانی کے پیسے ادا کرو جو پھینک ہے پھر دوسرے کی بات کرنا وہ دل ہی دل میں کہنے لگا واقعی بات ٹھیک ہے کہ آج کل نظام ایسا ہی ہے.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top