وہ عورت نادم ہو کر چلی گئی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ05فروری2017)حکیم ترمذی رحمتہ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے دین کا بھی حکیم بنایا تھا اور دنیا کی بھی حکمت دی تھی. ترمذ کے رہنے والے تھے‘ اس وقت دریاے آمو کے بالکل کنارے پر ان کا مزار ہے اور مجھے ان کے مزار پر حاضری کا شرف نصیب ہو چکا ہے.

آپ وقت کے ایک بہت بڑے محدیث بھی تھے اور طبیب بھی‘ اللہ رب العزت نے ان کو اپنے علاقے میں قبولیت عامہ تامہ عطا کر رکھی تھی.

آپ عین جوانی کے وقت ایک دن اپنے مطب میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عورت آئی اور اس نے اپنا چہرہ کھول دیا وہ بڑی حسینہ جمیلہ تھی کہنے لگی کہ میں آپ پر فریفتہ ہوں بڑی مدت سے موقع کی تلاش میں تھی آج تنہائی ملی ہے آپ میری خواہش پوری کریں‘ آپ کے دل پر خوف خدا غالب ہوا تو رو پڑے آپ اس انداز سے روئے کہ وہ عورت نادم ہو کر واپس چلی گئی. وقت گزر گیا اور آپ اس بات کو بھول بھی گئے. جب آپ کے بال سفید ہو گئے اور کام بھی چھوڑ دیا تو ایک مرتبہ آپ مصلےٰ پر بیٹھے تھے ایسے ہی آپ کے دل میں خیال آیا کہ فلاں وقت جوانی میں ایک عورت نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا اس وقت اگر میں گناہ کر بھی لیتا تو آج میں توبہ کر لیتا لیکن جیسے ہی دل میں یہ خیال گزرا تو رونے بیٹھ گئے. کہنے لگے اے رب کریم! جوانی میں تو یہ حالت تھی کہ میں گناہ کا نام سن کر اتنا رویا کہ میرے رونے سے وہ عورت نادم ہو کر چلی گئی اب میرے بال سفید ہو گئے تو کیا میرا دل سیاہ ہو گیا. اے اللہ! میں تیرے سامنے کیسے پیش ہوں گا. اس بڑھاپے کے اندر جب میرے جسم میں قوت ہی نہیں رہی تو آج میرے دل میں گناہوں کا خیال کیوں پیدا ہوا.روتے ہوئے اسی حال میں سو گئے. خواب میں رسول اللہﷺ کی زیارت نصیب ہوئی. پوچھا حکیم ترمذی تو کیوں روتا ہے. عرض کیا میرے محبوبﷺ جب میری جوانی کا وقت تھا‘ جب شہوت کا دور تھا‘

جوقوت کا زمانہ تھا جب اندھے پن کا وقت تھا اس وقت تو خشیت کا یہ عالم تھا کہ گناہ کی بات سن کر میں اتنا رویا کہ وہ عورت نادم ہو کر چلی گئی لیکن اب جب بڑھاپا آیا ہے تو اے اللہ کے محبوبﷺ میرے بال سفید ہو گئے لگتا ہے کہ میرا دل اس قدر سیاہ ہو گیا ہے کہ میں سوچ رہا تھا کہ میں اس عورت کی خواہش پوری کر دیتا اور بعد میں توبہ کر لیتا میں اس لئے آج بہت پریشان ہوں‘

رسول اللہﷺ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا: یہ تیری کمی اور قصور کی بات نہیں جب تو جوان تھا‘ تو اس زمانے کو میرے زمانے سے قرب کی نسبت تھی ان برکتوں کی وجہ سے تیری کیفیت اتنی اچھی تھی کہ گناہ کی طرف خیال ہی نہ گیا‘ اب تیرا بڑھاپا آ گیا ہے تو میرے زمانے سے دوری ہو گئی ہے اس لئے اب دل میں گناہ کا وسوسہ پیدا ہو گیا.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top