تعمیر خانہ کعبہ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ05فروري2017)حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ آتے تو قیام نہ کرتے مگر تیسری بار پھر تشریف لائے ، اللہ کا حکم تھا کہ تعمیر کعبہ کریں . پہنچے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کو درخت کے سائے تلے زم زم کے پاس بیٹھے پایا، آپ تیر بنارہے تھے ، حضرت اسماعیل علیہ السلام نے دیکھا تو کھڑے ہو گئے ، باپ بیٹے بغل گیر ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ” بیٹا اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک حکم دیا ہے .
حضرت اسماعیل علیہ السلام بولے ”تو اطاعت کیجئے “. فرمایا “ کیا تو میری مدد کرے گا ؟ کہا “ کیوں نہیں . حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ یہاں ایک گھر بناؤں . حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر لاتے جاتے تھے اور حضرت ابراہیم بناتے جاتے تھے ، جب تعمیر ذرا بلند ہوگئی تو حضرت اسماعیل علیہ السلام ایک پتھر اٹھا کر لائے تاکہ آپ اس پر کھڑے ہو کر تعمیر کریں (یہی مقام ابرہیم علیہ السلام ) دونوں باپ بیٹے دعا کرتے جاتے تھے کہ ” اے پروردگار ہم سے قبول فرماتو سننے والا جاننے والا ہے . انہوں نے اس گھر کی تعمیر نہ مٹی سے کی نہ چونے سے بلکہ بس پتھر پر پتھر رکھتے چلے گئے . نہ اس کی چھت بنائی بعدازاں مختلف ایام میں بیت اللہ کی تعمیر ہوتی رہی . حتیٰ کہ قریش نے اس کی تعمیر کی . کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر بیس سال تھی ، بعض مورخین نے کچھ زیادہ بھی بتائی ہے . حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حجر کو بیت اللہ کے پہلو میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بکریوں کا باڑہ بنایا تھا اور اس پر پیلو کی چھت تھی . پہلے بیت اللہ کی جگہ ایک سرخ ٹیلا تھا. جسے اکثر سیلاب ادھر ادھر سے کاٹتا رہتا تھا . جب حضرت ابراہیم علیہ السلام تعمیر خانہ کعبہ سے فارغ ہوگئے تو انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ایک ایسے پتھر کا مطالبہ کیا جسے بطور علامت کے رکھ سکیں تاکہ وہ آغاز طواف کے لئے بطور نشانی کے استعمال ہو سکے کہتے ہیں کہ حضرت جبریل علیہ السلام اس پتھر کو بوقبیس پہاڑ سے لائے تھے . آپ نے اس اس مقام پر رکھ دیا جہاں وہ اب قائم ہے روایت ہے کہ یہ بہت زیادہ روشن تھا . حضرت جبریل علیہ السلام نے تمام مقام دکھائے پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ لوگوں کو حج کے لئے پکاریں واذن فی الناس بالحج یاتوک رجالاوعلی کل ضامر یاتین من کل فج عمیق ط اعلان کردیجئے لوگوں کو حج کے لیے ، وہ آئیں گے پیدل اور دیلی اونٹنیوں پر سوار جوآئیں گی ہر وسیع گہرے راستہ ہے . ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا ” پروردگار! میری آواز لوگوں تک کیسے پہنچ سکتی ہے . اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” آپ پکاریئے ہم آپ کی پکار کو لوگوں تک پہنچادیں گے . تفسیرجلالین میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ کر پکارا ” اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے ایک گھر بنایا ہے اور تم پر حج فرض کیا ہے لہٰذا تم اپنے پروردگار کو لبیک کہو . آپ نے داہنے ، بائیں شمال وجنوب میں منہ کرکے آوازدی اور لوگوں نے لبیک کہی . حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہرسال حج کے لئے آیاکرتے بعدازاں تمام انبیاء اور ان کی امتیں حج کے لئے آتے رہے . مجاہد لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل نے پیادہ پاحج کئے، روایت ہے کہ پچھتر انبیاء نے حج کیا اور منیٰ میں نماز ادا کی . تاریخ ازرقی میں ہے کہ انس بن ماملک مکہ آئے تو حضرت عمررضی اللہ عنہ عبدالعزیز حاضر خدمت ہوئے اور پوچھا ” مسافروں کے لئے طواف بہتر ہے یا عمرہ ؟ تو آپ نے فرمایا ” طواف افضل ہے . ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اس گھر پر ہر دن رات میں ایک سوبیس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، ساٹھ طواف کرنے والوں کے لئے ہیں ، چالیس نمازیوں کے لئے ہیں اور بیس دیکھنے والوں کے لئے ہیں . حضرت حسان بن عطیہ نے فرمایا ہے ” ہم نے رسول اللہ ﷺ کے اس قول میں غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ سب رحمتیں طواف کرنے والوں کے لئے ہیں کیونکہ وہ طواف بھی کرتا ہے ، نماز بھی پڑھتا ہے اور کعبہ کی طرف دیکھتا بھی ہے . کسی نے کیا ہی اچھا کہا ہے . خانہ کعبہ میں طرح طرح کی فضلتیں ہیں، گھر والا ہی انہیں جانتا ہے ، جو کوئی یہاں اپنی خطاؤں سے ڈر کر آیا ، اللہ کی حفاظت کرتا ہے .
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top