قرآن کی حرمت

اسلام آباد (قدرت روزنامہ05فروري2017)ایک خدارسیدہ بزرگ کا فرزند فوت ہوگیا ، لوگوں نے پوچھا : میت کے صندوق پر کون سی آیت لکھی جائے ؟ بزرگ نے جواب دیا : یہ بات کلام اللہ کی حرمت کے منافی ہے کہ اس کی مقدس آیات ایسی چیز پر لکھی جائیں جو چیزوں کے نیچے آنے والی ہیں ، اور کتے جس پر پیشاب کریں گے ، اگرکچھ لکھنا ضروری ہے تو لوح مزار پر یہ تحریر لکھ دیئے جائیں . چمن کی سیر کو جائیں تو دل سیراب ہوتا ہے نظرآتا ہے ہرگل شوخ اور شاداب ہر پتا مگر اے وائے دنیا میں ایک دن ایسا بھی آئے گا تو دیکھے گا ہماری گور پر سبزہ اگا ہوا شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اس حکایت میں ایک ایسی رسم کو ختم کرنے کااشارہ کیا ہے .
جو مسلمانوں میں قریب قریب عام ہے ، کسی شخص کاانتقال ہوتا ہے تو برکت کے خیال سے اس کے کفن اورصندوق پر قرآن مجید کی آیات لکھی جاتی ہیں . یہ یقیناقرآن پاک کی بے حرمتی ہے ، جب ایسے مزار ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں ، اور ان کاتو بالآخر یہی حشر ہوتا ہے ، تو وہ زمین لوگوں کی گزر گاہ ہوتی ہے ، اور بقول شیخ سعدی کے کتے وہاں پیشاپ کرتے ہیں . اس کے علاوہ یہ خیال بھی ہمارے مذہب کے مطابق نہیں ہے کہ صرف قرآن کی آیات لکھ دینے سے کوئی شخص بخشا جائے گا. عذاب ہونے نہ ہونے یا بخشے جانے کا انحصار تو صرف اعمال پر ہے.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top