ہٹ جاؤ سود خور آ رہا ھے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ03فروري2017). حضرت خواجہ حبیب عجمی رحمتہ اللّه علیہ بڑے جلیل القدر اولیاء میں سے ہو ھیںطریقت میں آپ رحمتہ اللّه علیہ حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اللّه علیہ کے خلیفہ تھےابتدا میں آپ بہت دولت مند تھے لیکن سود خور تھےہر روز تقاضا کرنے جاتے تھے.جب تک وصول نہ کر لیتے اسے نہ چھوڑتے،ایک دن کسی مقروض کے گھر گئے لیکن وہ گھر پر نہ تھا.اس کی بیوی نے کہا کہ اس کے پاس قرض ادا کرنے کے لئیے رقم موجود نہیں ھے. البتہ بکری ذبح کی تھی,اس کی گردن موجود ھے.جو ھم نے گھر پر پکانی ھے.لیکن آپ رحمتہ اللّه علیہ اس عورت سے بکری کا گوشت زبردستی لے آئے اور گھر آ کر بیوی سے کہا کہ یہ سود میں ملی ھے اسے پکا لو،بیوی نے کہا آٹا اور لکڑی بھی ختم ھے اس کا بھی بندوبست کر دو،آپ رحمتہ اللّه علیہ دوسرے قرضداروں کے پاس گئے اور یہ چیزیں بھی سود میں

لے آئے جب کھانا تیار ھو گیا تو کسی سوالی نے آواز دی کہ بھوکا ھوں کچھ کھانے کو دو آپ رحمتہ اللّه علیہ نے اندر سے ھی اس سائل کو جھڑک دیا. .سائل چلا گیا.جب آپ کی بیوی نے ہانڈی سے سالن نکلنا چاہا تو دیکھا کہ وہ خون ھی خون ھے،بیوی نے حیران ھو کر شوہر کی طرف دیکھااور کہا اپنی شرارتوں اور کنجوسی کہ نتیجہ دیکھ لو خواجہ حبیب عجمی رحمتہ اللّه علیہ نے یہ ماجرا دیکھا تو حیرت زدہ رہ گئے اس واقعہ نے آپ رحمتہ اللّه کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا،اسی وقت سابقہ بےروی سے توبہ کی، ایک روز باہر نکلے،راستہ میں بچے کھیل رھے تھے انہوں نے خواجہ صاحب کو دیکھ کر چلانا شروع کر دیا: “ہٹ جاؤ حبیب سود خور آ رہا ھے ھم پر اس کی گرد پڑ گئی تو ھم بھی ایسے ھی ھو جائیں گے”. یہ سنا تو تڑپ اٹھے،ندامت سے سر جھکا لیا، اور کہنے لگے:اے رب! بچوں تک تو نے میرا حال ظاہر فرما دیا خواجہ حسن بصری رحمتہ اللّه علیہ کی خدمت میں حاضر ھو کر توبہ کی،سب قرضداروں کا قرض معاف کر دیا،اپنا سارا مال اسباب راہ خدا میں دے ڈالا،عبادت و ذکر الہی میں مصروف ھو گئے اور صائم الدہراور قائم اللیل رہنے لگے،کچھ عرصہ بعد پھر ان لڑکوں کے پاس سے گزر ھوا تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش رھو حبیب العابد جاتے ھیں،یہ سن کر آپ رحمتہ اللّه علیہ رونے لگے اور کہا “اے اللّه یہ سب تیری طرف سے ھے”. جب اس طرح عبادت کرتے ایک مدت گزر گئی تو ایک دن بیوی نے شکایت کی کہ ضرورت کیسے پوری کی جاۓ، آپ رحمتہ اللّه نے فرمایا اچھا کام کا پر جاتا ھوں،مزدوری سے جو ملے گا لے آؤں گا.چنانچہ آپ رحمتہ اللّه علیہ دن بھر گھر سے باہر رہ کر عبادت کرتے اور شام کو گھر واپس آ جاتے.بیوی ان کو خالی ہاتھ دیکھتی تو کہتی یہ کیا معاملہ ھے،آپ رحمتہ اللّه علیہ فرماتے کہ میں کام کر رہا ھوں.جس کہ کام کر رہا ھوں وو بڑا سخی ھے.کہتا ھے وقت آنے پر خود ھی اجرت دے دیا کروں گا،لہٰذا مجے اس سے مانگتے ہوۓ شرم اتی ھے،وہ کہتا ھے ھر دسویں روز مزدوری دیا کروں گا، چنانچہ بیوی نے دس دن صبر کیا. جب آپ رحمتہ اللّه علیہ دسویں روز بھی شام کو خالی ہاتھ واپس جانے لگے تو راستے میں خیال آیا کہ اب بیوی کو کیا جواب دوں گا.اسی خیال میں گھر پہنچے،تو عجیب ماجرا دیکھا،عمدہ عمدہ کھانے تیار رکھے ھیں،بیوی آپ رحمتہ اللّه علیہ کو دیکھتے ھی بول اٹھی یہ کس نیک بخت کا کام کر رھے ھو جس نے دن رات کی اجرت اس قسم کی بھیجی اور 3 ہزار درہم نقد بھی بھیجے ھیں اور یہ بھی کہلا بھیجا ھے کہ کام زیادہ محنت سے کرو گے تو اجرت اور زیادہ دوں گا. یہ دیکھ کر آپ رحمتہ اللّه علیہ کی آنکھیں اشک بار ھو گئیں خیال گزرا خدائے پاک نے ایک گنہگار بندے کی دس روز کی عبادت کا یہ صلہ دیا،اگر زیادہ حضور قلب سے عبادت کروں تو نہ جانے کیا کچھ دے،یہ خیال آتے ھی خلائق دنیا سے بالکل الگ ھو گئے اور ایسی عبادتیں اور ریاضتیں کیں کہ اسرارِ الہی بےنقاب ھو گئے،عنایتِ الہی کا نزول شروع ھو گیا اور آپ کو مستجاب الدعوات کا درجہ مل گیا.

.
.


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top