حضرت شمس تبریزاورشمس کی آگ

shamsh-u-

 

اسلام آباد (قدرت روزنامہ02فروري2017)بغداد کے تمام اراکین سلطنت بھی علماء کے ہم نوا تھے. انجام کار بادشاہ کی مرضی کے خلاف بھرے مجمع میں حضرت شمس تبریزؒ کی کھال کھینچ لی گئی اور اس حالت میں بغداد سے نکال دیا گیا کہ پورا جسم لہو لہان تھاولی عہد سلطنت شہزادہ محمد کو حضرت شمس تبریزؒ سے بہت عقیدت تھی جب آپ شہر بدر ہوئے تو شہزادہمحمد بھی آپ کے ہمراہ تھا رخصت ہوتے وقت اس نے اپنے امرائے سلطنت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا.

”جس ملک میں حضرت شمس تبریزؒ جیسے صاحبِ کمال کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے وہ ایک لعنت کدہ ہے اور میں اس لعنت کدے میں سانس لینا بھی گناہ سمجھتا ہوں.” یہ کہہ کر شہزادہ محمد حضرت شمس تبریزؒ کے ساتھ بغداد کی حدود سے نکل گیا.

بغداد سے نکل کر حضرت شمس تبریزؒ نے ہندوستان کا رخ کیا اور طویل مسافت طے کر کے ملتان پہنچے اور پھر اسی تاریخی شہر میں سکونت پذیر ہو گئے اس وقت مشہور بزرگ حضرت بہاءالدین زکریا ملتانیؒ حیات تھے. جب آپ کو حضرت شمس تبریزؒ کی آمد کی اطلاع ملی تو شیخ نے ان کی خدمت میں دودھ کا پیالہ بھیجا.

حضرت شمس تبریزؒ نے بڑے احترام کے ساتھ پیالہ لے لیا اور پھر اس میں گلاب کا پھول ڈال کر حضرت بہاء الدین زکریا ملتانیؒ کے خادم کو واپس کر دیا. بعض اہل تصوف نے اس واقعے کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دودھ کا لبریز پیالہ بھیجنے سے حضرت بہاء الدین زکریاؒ کی مراد یہ تھی کہ ملتان میں اب کسی دوسرے درویش کی گنجائش نہیں. جواب میں حضرت شمس تبریزؒ نے دودھ کے پیالے میں گلاب کا پھول ڈال دیا اس سے ان کا مقصد تھا کہ وہ ملتان میں پھول بن کر رہیں گے یعنی ان کی ذات سے کسی کو ضرر نہیں پہنچے گا.

حضرت شمس تبریزؒ اپنے عہد پر قائم رہے مگر ملتان کے لوگوں نے بھی اہل بغداد کی طرح آپ کی شدید مخالفت کی. ایک بار یوں ہوا کہ حضرت شمس تبریزؒ کو گوشت بھوننے کے لے آگ کی ضرورت پیش آئی. آپ نے شہزادہ محمد کو آگ لانے کے لئے بھیجا مگر پورے شہر میں کسی نے آگ نہیں دی. ایک سنگدل شخص نے تو شہزادے کو اتنا مارا کہ اس کے دلکش چہرے پر زخموں کے نشانات ابھر آئے.

“یہ کیا ہے؟” حضرت شمس تبریزؒ نے شہزادے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا. “تم تو آگ لینے گئے تھے.”شہزادہ محمد نے پورا واقع سنایا تو حضرت شمس تبریزؒ کو جلال آ گیا آپ نہایت غصے کی حالت میں اپنی خانقاہ سے نکلے. گوشت کا ٹکڑا ہاتھ میں تھا. پھر حضرت شمس تبریزؒ نے آسمان پر نظر کی اور سورج کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا.

“تو بھی شمس! میں بھی شمس! میرے اس گوشت کے ٹکڑے کو بھون دے.”

اتنا کہنا تھا کہ یکایک گرمی کی شدت میں اضافہ ہو گیا پھر یہ گرمی اتنی بڑھی کہ اہل ملتان چیخ اٹھے. در و دیوار جل رہے تھے اور پورا شہر آگ کی بھٹی بن کر رہ گیا تھا.کچھ با خبر لوگوں نے یہ صورتحال دیکھی تو حضرت شمس تبریزؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے. “کیا چند نادانوں کے جرم کی سزا پورے شہر کو دے ڈالیں گے.””یہ نادان نہیں، سفاک ہیں.” حضرت شمس تبریزؒ نے غضب ناک لہجے میں فرمایا. “آگ جیسے بے قیمت چیز نہیں دے سکے.میرے محبوب کے چہرے کو زخموں سے سجا دیا. آخر کیا جرم تھا اس کا؟ جانتے ہو اسے یہ کون ہے؟ بغداد کا شہزادہ ہے. میری خاطر دروازے دروازے بھیک مانگنے گیا. میں اس کے زخموں کو کیسے بھول سکتا ہوں؟ جب تک سارے شہر کے جسم آبلوں سے نہیں بھر جائیں گے اس وقت تک مجھے قرار نہیں آئے گا.”

“یہ آپ کے مقام سے واقف نہیں. خدا کے لئے انہیں معاف کر دیجئے.” ملتان کے دانائے راز حضرات نے اپنے ہم وطنوں کی سفارش کرتے ہوئے کہا.”اور یہ بات آپ جیسے بزرگ کے شایانِ شان بھی نہیں.””خیر! جب خدا کو درمیان میں لے آئے ہو تو معاف کئے دیتا ہوں.” حضرت شمس تبریزؒ نے مقامی لوگوں کی جماعت سے فرمایا اور پھر سورج سے مخاطب ہوئے. “اپنی حرارت کم کر دے. پتا نہیں یہ لوگ روز حشر کی گرمی کو کیسے برداشت کریں گے؟” آپ کا یہ فرمانا تھا کہ سورج کی حرارت اعتدال پر آ گئی.خدا ہی جانتا ہے یہ واقع کس طرح پیش آیا تھا مگر عوام ملتان کی گرمی کو اسی واقعے کا نتیجہ سمجھتے ہیں.675ھ میں حضرت شمس تبریزؒ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے. آپ کا مزار مبارک ایک قلعہ نما فصیل کے اندر شیخ محمد جمال ملتانی کے روضے سے کچھ فاصلے پر ہے.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top