لیلیٰ کو دیکھوں

اسلام آباد (قدرت روزنامہ01فروري2017)ایک بادشاہ نے لیلیٰ کے بارے میں سنا کہ مجنوں اس کی محبت میں دیوانہ بن چکا ہے اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ میں لیلیٰ کو دیکھوں تو سہی چنانچہ جب اس نے دیکھا تو اس کا رنگ کالا تھا اور شکل بھدی تھی وہ اتنی کالی تھی کہ اس کے ماں باپ نے لیلیٰ (رات) سے مشابہت کی وجہ سے اس کو (کالی) کا نام دیا‘ لیلیٰ کے بارے میں بادشاہ کا تصور یہ تھا کہ وہ بڑی نازمین اور پری چہرہ ہو گی مگر جب اس نے لیلیٰ کو دیکا تو اسے کہا .

دوسری عورتوں سے زیادہ تو خوبصورت نہیں ہے جب بادشاہ نے یہ کہا تو لیلیٰ نے آگے سے جواب دیا ’’کہ خاموش ہو جا تیرے پاس مجنوں کی آنکھ نہیں ہے اگر مجنوں کی آنکھ ہوتی تو تجھے دنیا میں میرے جیسا کوئی خوبصورت نظر نہ آ تا.

 مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ اس کو کسی نے دیکھا کہ ریت کے ڈھیر پر بیٹھے کچھ لکھ رہا ہے اس پر انہوں نے کہا ’’ایک صحرا نورد نے ایک بار مجنوں کو دیکھا‘ غم کے بیاباں میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا‘ ریت کو اس نے کاغذ بنایا ہوا تھا اور اپنی انگلیوں کو قلم اور کسی کو کوئی خط لکھ رہا تھا‘ اس نے پوچھا‘ اے مجنوں شیدا تو کیا لکھ رہا ہے؟ تو کس کے نام خط لکھ رہا ہے؟ مجنوں نے کہا کہ لیلیٰ کے نام کی مشق کر رہا ہوں اس کے نام کو لکھ کر میں اپنے آپ کو تسلی دے رہا ہوں. اس سے معلوم ہوا کہ جب دنیا کے محبوب کا نام لکھنے اور بولنے سے سکون ملتا ہے تو محبوب حقیقی کے ذکر و نام لینے پر کس قدر سکون ملے گا.ایک بادشاہ نے لیلیٰ کے بارے میں سنا کہ مجنوں اس کی محبت میں دیوانہ بن چکا ہے اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ میں لیلیٰ کو دیکھوں تو سہی چنانچہ جب اس نے دیکھا تو اس کا رنگ کالا تھا اور شکل بھدی تھی وہ اتنی کالی تھی کہ اس کے ماں باپ نے لیلیٰ (رات) سے مشابہت کی وجہ سے اس کو (کالی) کا نام دیا‘ لیلیٰ کے بارے میں بادشاہ کا تصور یہ تھا کہ وہ بڑی نازمین اور پری چہرہ ہو گی مگر جب اس نے لیلیٰ کو دیکا تو اسے کہا .

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top