حدیث حب وطن کا بیان

اسلام آباد (قدرت روزنامہ01فروري2017)حدیث حب وطن میں واردوطن سے مراد آخرت ے نہ کہ دنیا . دنیا کا مطلب وطن جان کر دھوکہ ہر گزنہ کھانا.
ہر دعا کا ایک محل ہے اس کو غلط مقام پر استعمال نہ کرنا . اسی طرح حب وطن کو غلط مقام پر استعمال نہیں کرنا چاہئے . بزرگان دین وضو کرتے وقت ہر عضو کودھوتے ہیں اور خاص دعا پڑھتے ہیں . جب وہ ناک میں پانی ڈالتے ہیں تو دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ہمیں جنت کی خوشبوسونگھادے . پھول کی خوشبو چمن کے لئے رہنما ہے اور اسی طرح جنت کی خوشبو جنت کی رہنما ہے . پاخانہ سے نکلتے وقت دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! نجاست ظاہر کاازالہ تو مجھ سے ممکن تھا وہ میں نے کر لیا اور باطنی نجاست صرف توہی پاک کرسکتا ہے . یہ اللہ عزوجل کی ہی قدرت سے ممکن ہے کہ وہ روح کو پاک کردے . انسان کامقدور یہی ہے کہ وہ نجاست ظاہری سے پاکی حاصل کرے. نجاست ظاہر کی حد آگے کی پاکی اللہ عزوجل کے دست قدرت میں ہے . ایک آدمی نے استنجے کے وقت دعا پڑھی جو ناک میں پانی ڈالتے وقت کی ہے . جس طرح یہ دعا بے محل ہے اسی طرح یہ بات بھی بے محل ہے کہ انسان احمقوں کی مانندان کے سامنے تواضع برتے اور اللہ عزوجل کے برگزیدہ بندوں سے بعض رکھے . یادرکھو کہ انسان کی الٹی چالیں اس کی رفعت اور بلندی کی مانند ہیں. پھول کی خوشبو دماغ کے لئے ہے اور پاخانہ کے سوراخ سے جنت کی خوشبو محسوس کی جاسکتی ہے . اسی طرح وطن کی محبت درست ہے مگر پہلے وطن کی پہچان ضروری ہے . مقصود بیان : مولانا محمد جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ کسی بھی حدیث کو کسی مقام پربیان کرنے سے قبل اس کے سیاق وسباق پر غور کرو اور اس کے مفہوم پر غور کرو. ظاہر کی محبت کی بجائے باطن کی محبت پر توجہ دواور ظاہر کوسنوارنے کی بجائے باطن کو سنوارو. اللہ عزوجل کے برگزیدہ اور پسندیدہ بندوں سے بعض وعداوت نہ رکھو کہ ان سے بعض وعداوت رکھنا تمہارے لیے خسارے کاباعث ہے .
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top