ایک مسجد کا قصہ جو مہمان کو ہلاک کر دیتی تھی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ01فروري2017)اس واقعہ کا لب لباب یہ ہے کہ اکثر لوگ جن چیزوں کو ہلاکت کا باعث سمجھتے ہیں وہ کامیابیوں کا باعث بن جاتی ہیں. یہ مسجد قصبے میں واقع تھی.

امام فخر الدین زاری ؒ کا تعلق بھی اسی قصبے سے تھا. موت کے ڈر کی وجہ سے کوئی شخص رات کے وقت اس مسجد میں سونے سے گھبراتا تھا.جتنے منہ اتنی باتیں تھیں. کوئی کہتا کہ یہ مسجد جادو کی حامل ہے جو کوئی اس میں سوتا ہے وہ ہلاک ہو جاتا ہے. کوئی کہتا کہ اس میں پریاں یا دیو ہیں جو رات کوہلاک کر دیتے ہیں . کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ مسجد کو تالا لگا دینا چاہئیے تاکہ کوئی م سافر لاعلمی میں اس میں سو نہ جائے اور موت کا شکار نہ بن جائے. ایک روز اس قصبے میں ایک مہمان وارد ہوا. اس کے علم میں بھی مسجد کے بارے میں اس قسم کی باتیں آئیں. یہ باتیں اس کی بہادری کے لئے ایک چیلنج تھیں. اس نے سوچا کہ معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے. اگر میرا جسم ہلاکت کا شکار بھی ہو گیا تو کوئی حرج نہیں میری روح تو باقی رہے گی. لوگوں نے اس شخص کوسمجھایا کہ مسجد میں ٹھہرنے سے گریز کرو اور اپنی موت کو آواز نہ و. تم سے پہلے بھی کچھ لوگوں نے بہادری دکھانے کی کوشش کی تھی لیکن ما سوائے شرمندگی کچھ ہاتھ نہ آیا تھا. لہذا خواہ مخواہ موت کے منہ میں چھلانگ نہ لگاﺅ.

اس شخص نے جواب دیا کہ میں ان باتوں سے ڈرنے والا نہیں ہوں. مسجد میں سونے کی وجہ سے جن مصائب کا شکار ہونے سے تم مجھے ڈرا رہے ہو میں اس بے بڑے بڑے مصائب سے گزر چکا ہوں. میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مانند جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا مہمان نے مزید کہا کہ قرآن پاک فرماتا ہے کہ :. ”اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں خریدی ہیں “. انسان اپنی جان اور مال سے اس وقت تک پیار کرتا ہے جب تک اسے عطا پر یقین نہیں ہوتا جو اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top