دھماکے سے پہلے مشکوک شخص سی سی ٹی وی کیمرہ آپریٹر کے پاس گیا جس سے یہ خدشہ بھی جنم لیتا ہے کہ کارروائی کے وقت وہاں ایک سے زائد دہشت گرد موجود تھے

سہون شریف (قدرت روزنامہ17فروری2017)لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکے کے نتیجے میں 80 افراد شہید ہو چکے ہیں اور اب انکشاف ہوا ہے کہ دھماکے سے پہلے مشکوک شخص سی سی ٹی وی کیمرہ آپریٹر کے پاس گیا جس سے یہ خدشہ بھی جنم لیتا ہے کہ کارروائی کے وقت وہاں ایک سے زائد دہشت گرد موجود تھے.

 تفصیلات کے مطابق دھماکے کے بعد نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک عینی شاہد نے کہا کہ ”میں سی سی ٹی وی سسٹم کے پاس کھڑا تھا، باہر سے ایک آدمی آیا اور سی سی ٹی وی آپریٹر ے کچھ کہا اور بھاگا، میں بھی اس کے پیچھے بھاگا، بم اندر پھٹا تھا، سی سی ٹی وی کا جو آپریٹر بیٹھا تھا، اس کو وہ چیز نظر آئی تھی .
“ ایک اور عینی شاہد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ مزار میں دعا مانگ رہا تھا کہ اچانک دھماکہ ہو گیا، دھماکے سے دھمک ہوئی، آس پاس لاشیں پڑی تھیں اور قیامت صغریٰ کا منظر تھا. ایک عینی شاہد نے ناقص سیکیورٹی کا گلہ بھی کیا اور کہا کہ وہاں کوئی سیکیورٹی نہیں تھی اور کچھ پتہ نہیں تھا کہ اندر کون جا رہا ہے اور کون باہر آ رہا ہے.
 ذرائع کے مطابق سی سی ٹی وی آپریٹر کے پاس آ کر کچھ کہہ کر بھاگنے والا شخص حملہ آور تو نہیں تھا لیکن انتہائی مشکوک حرکت کے باعث اس کے حملہ آور کا ساتھی ہونے کا شبہ گزرتا ہے اور یہ خدشہ بھی جنم لیتا ہے کہ جس وقت حملہ ہوا اس وقت وہاں ایک سے زائد دہشت گرد موجود تھے.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top