حضرت سید عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندرؒ تیرہویں صدی کی شروعات میں ایران کے علاقے مروتک سے تبلیغ کرنے کیلئے سہون تشریف لائے تھے

کراچی (قدرت روزنامہ17-فروری-2017)حضرت سید عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندرؒ تیرہویں صدی کی شروعات میں ایران کے علاقے مروتک سے تبلیغ کرنے کیلئے سہون تشریف لائے تھے،مشہور صوبی بزرگ، شاعر، فلسفی اور قلندر تھے، بعض ذرائع کے مطابق آپ کا چہرہ انور پر لال رنگ کے قیمتی پتھر ”لعل“ کی مانند سرخ کرنیں پھوٹتی تھیں، اس وجہ سے آپؒ کا لقب لعل ہوا، ان کا زمانہ اولائے کرامؒ کا زمانہ مشہور ہے.تفصیلات کے مطابق مشہور بزرگ شیخ بہاﺅالدین زکریا ملتانی، شیخ فریدالدین گنج شکرؒ، شمس تبریزیؒ، جلال الدین رومیؒ اور سید جلال الدین سرخ بخاریؒ ان کے قریباً ہم عصر تھے، پہلے وہ ایران سے ملتان پہنچے، جہاں قیام کے دوران وہ تصوف کی جانب مائل ہوگئے.
تقریباً 65 برس کی عمر میں سہون آئے، جہاں انہوں نے تبلیغ شروع کی، اس دور میں سہون تمام برائیوں کا گڑھ بن چکا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے سہون میں مستقل قیام کرنے کا ارادہ کیا. ایک اندازے کے مطابق انہوں نے 35 برس سہون میں گزارے اورت قریباً 100 برس کی عمر میں وفات پائی. حضرت لعل شہباز قلندرؒ جب سہون میں آئے اس وقت سہون کا علاقہ سیوستان کے نام سے جانا جاتا تھا. حضرت لعل شہبازؒ کی تبلیغ اور کردار کی وجہ سے ناصرف سہون، بلکہ دیگر علاقوں کے افراد بھی متاثر ہوئے. ان کی وفات کو 764 ہجری برس گزرچکے ہیں، ہر سال 18 شعبان سے عرس کی 3 روزہ تقریبات ہوتی ہیں، جس میں ناصرف سندھ، بلکہ پنجاب، خیبرپختونخوا سے بھی زائرین کی بہت بڑی تعداد آتی ہے.روزنامہ امت کے مطابق حضرت شہباز قلندرؒ کے حوالے سے اہل تشیع مسلک کے افراد کا موقف ہے کہ ان کا شجرہ نصب حضرت ابرہیمؓ سے ملتا ہے، جن کا مزار کربلا میں درگاہ حضرت امام حسینؓ کے باہر ہے.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top