حافظ سعید کی نظربندی نیشنل ایکشن پالیسی کا حصہ ہے جبکہ متحدہ بانی کے ریڈ وارنٹ اورحوالگی کا معاملہ وزارت داخلہ کے پاس ہے۔سرتاج عزیز

کراچی (قدرت روزنامہ12فروری2017) مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ حافظ سعید کی نظربندی نیشنل ایکشن پالیسی کا حصہ ہے جبکہ متحدہ بانی کے ریڈ وارنٹ اورحوالگی کا معاملہ وزارت داخلہ کے پاس ہے. کراچی میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے نتیجے میں نہ صرف تعلقات قائم ہوتے ہیں بلکہ ریاستوں کی ثقافت سمیت قوم کی سوچ کا بھی علم ہوتا ہے اور خارجہ پالیسی دنیا کی صورتحال پر بھی اثر انداز ہوتی ہے جبکہ ہماری فارن پالیسی کے نتیجے میں ہی سی پیک کا عظیم منصوبہ وجود میں آیا.

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ گزشتہ 7 ماہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جارحیت سے صورتحال بہت زیادہ کشیدہ ہے، بھارت زمینی حقائق کو نظرانداز کر کے کشمیریوں کے حقوق دبا رہا ہے جبکہ بھارت پر مسئلہ کشمیرکے حل اورمذاکرات کی بحالی کے لیے عالمی دباو¿ میں اضافہ ہوا ہے. تاہم مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں قیام امن کا ایجنڈا نامکمل ہے. انہوں نے کہا کہ مودی کی پاکستان مخالف پالیسی سے خطے میں خطرات ہیں، بھارت پر نجانے کس کا خوف ہے کہ وہ ہر سال اپنے دفاعی بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کر رہا ہے، بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھی مداخلت کرتا ہے اور پاکستان کا امن خراب کرنے میں بھارت ملوث ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے جاسوس بھی پاکستان میں پکڑے گئے ہیں اور کلبھوشن یادیوکا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا ہے. مشیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے سوا پوری دنیا افغانستان میں امن کی خواہاں ہے، افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے ہم بہت سنجیدہ ہیں اور افغانستان کے ساتھ پ±رامن مذاکرات سے خطے میں امن چاہتے ہیں جبکہ امریکا کی جانب سے پاکستان پر ویزا پابندی کی تجویز زیرغور نہیں. امریکا کے ساتھ مستقبل میں تعلقات اچھے رہنے کی امید ہے اور پاکستان پڑوسی ممالک سمیت دنیا کے تمام ملکوں سے بھی بہتر اور برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے. سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ حافظ سعید کی نظربندی نیشنل ایکشن پالیسی کا حصہ ہے جبکہ متحدہ بانی الطاف حسین کے ریڈ وارنٹ اور حوالگی کا معاملہ وزارت داخلہ کے پاس ہے. انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا ہے جبکہ ضرب عضب کے نتیجے میں کراچی کے عوام بھی دہشت گردی سے نجات حاصل کر چکے ہیں اور اب ہم مدارس کے حوالے سے بھی ازسرنو پالیسی بنا رہے ہیں. ہفتہ کو کراچی میں ساتویں بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس کا افتتاح ہوا جس کا اعلان مشیر خارجہ سرتاج عزیزنے کیا. انہوں نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میری ٹائم سکیورٹی بحر ہند کے ممالک کی سلامتی سے براہ راست تعلق رکھتی ہے ¾بحر ہند کا خطہ معاشی اور سیاسی طور پر انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے ¾بحری قذاقی سے نمٹنے کےلئے پاکستان دیگر ملکوں کے ساتھ کام کر رہا ہے. مشیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بحر ہند کا تیسرااہم ملک ہے ¾خطے میں اہم تبدیلیاں ہو رہی ہیںتقریباً 30ممالک بحرہند کے خطے سے جڑے ہیں ¾دنیا کی 40 فیصد تجارت بحر ہند سے گزرتی ہے ¾آبنائے ہرمز ،اور ملاکا بحر ہند کے راستے کی اہم ترین گزر گاہیں ہیں .مشیر خارجہ نے کہا کہ دنیا میں تیل و گیس کے 30 فیصد ذخائر بحر ہند کے خطے میں ہیں ¾ وسائل سے فائدہ اٹھانے کےلئے بحر ہند کا کلیدی کردار ہے ¾ اس کو کشیدگی والے خطے کے بجائے امن والا خطہ بنانے کی ضرورت ہے. مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کہاکہ عالمی تجارت کےلئے اہم ترین گزر گاہ ہے ¾سی پیک منصوبہ وقت کے ساتھ ساتھ اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے،اسلحے کی دوڑ اور طاقت میں اضافہ بحرہ عرب میں خطرات پیدا کر رہا ہے. انہوںنے کہاکہ ہم بحر ہند میں استحکام کے لئے تمام ممالک سے تعاون کے لئے بھی تیار ہیں، وسائل کو ممالک کے درمیان تعاون کےلئے استعمال کرنا ہوگا،بہتر میری ٹائم سکیورٹی پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے. بحرہند 2030 میں تعاون یا جنگوں کا مرکز ہوگا،یہ ابھی سے طے کرنا ہو گا کہ خطے کے ممالک کو جنگوں کے لئے تیار رہنا ہے یا پھر اقتصادی تعاون کے لئے،یہ کانفرنس اس حوالے سے اہم ثابت ہو گی. تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکااللہ نے کہاکہ تجارت کے لئے دنیا کی نگاہیں سمندری راستوں کی سکیورٹی پر مرکوز ہیں اور کوئی بھی ملک سمندری راستے کو اکیلا محفوظ نہیں بنا سکتا ہے. انہوںنے کہاکہ کانفرنس عالمی سطح پر رابطوں کے فروغ کا ذریعہ ہو گی، سمندری راستے سے کارگو کی منتقلی میں تاخیر عالمی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے، کوئی بھی ملک سمندری راستے کو اکیلا محفوظ نہیں بنا سکتا. سمندری حدودکے تحفظ کے لئے دوسروں ملکوں کے ساتھ مل کرکام کررہے ہیں.چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ذکا اللہ نے کہا کہ سی پیک اورگوادرکی سکیورٹی کےلئے خصوصی فورس تشکیل دی ہے جو سمندری ٹاسک فورس کا اہم حصہ ہے. امید ہے میری ٹائم کانفرنس سے قابل قدر سفارشات کا حصول ممکن ہو سکے گا اور تجارت کے لئے دنیا کی نگاہیں سمندری راستوں کی سکیورٹی پر مرکوزہیں. صدرآزاد کشمیر مسعود خان نے کہاکہ گوادر بندرگاہ کی تعمیر کے بعد بھارت کے جنگی جنون میں اضافہ ہوا ہے اور اس نے بحرہند میں نئی آبدوزوں اور میزائلوں کے تجربے کئے ہیں. انہوںنے کہا کہ خطے میں امن سلامتی کےلئے پاک بحریہ کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا ہے، سی پیک موجوہ د حالات میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے، بحرہند میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، چین دنیا کی بڑی معیشت ہے، معیشتوں میں تیزی کا انحصارسمندری تجارت پر ہے. منوڑہ کے ساحل پر پاک بحریہ کی جنگی صلاحیتوں نے دنیا کو حیران کر ڈالا. امن 2017ءمشقوں کے دوسرے روز پاک بحریہ نے سمندروں پر حکمرانی کے گ±ر بتائے. ملٹری سالٹ بوٹس کی تیز رفتار جنگی چالوں، ہوور کرافٹ اور سپیشل فورسز بوٹس کا سکم پاسٹ، ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضا سے حملوں، ایس ایس جی اینز کی پیرا جمپنگ اور ساحلی دفاع کی مربوط کارروائیوں کا مظاہرہ کیا گیا. اس سے قبل تینوں مسلح افواج کے بینڈ نے فوجی اور مسحور کن روایتی دھن بکھیریں لیکن سری لنکن بحریہ کے بینڈ نے سوہنی دھرتی اللہ رکھے کی دھن بجا کر خصوصی داد وصول کی. تقریب میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکاءاللہ اور سری لنکن بحریہ کے سربراہ آر سی وجے گونا رتنے سمیت غیرملکی مندوبین اور شریک ممالک کے مشن کمانڈرز نے شرکت کی.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top