پانچ مرلے کے مکان میں رہنے والوں کیلئے بری خبرآگئی

لاہور (قدرت روزنامہ20اپریل2017) پنجاب حکومت نے بجٹ سے دو ماہ قبل ہی عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کردی. ہسپتالوں‘ کلینکس‘ سکولز و کالجز اور یونیورسٹیز پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دیدی گئی.

موٹرسائیکل رجسٹریشن‘ لائف ٹائم ٹوکن فیس میں بھی اضافہ کردیاگیا ہے. 5 پراپرٹی ٹیکس 25 فیصد سرچارج برائے پراپرٹی کرایہ اور پانچ مرلہ تک کے مکانوں کو ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کے حوالے سے متعلقہ امور پر کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے. بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے آٹھ تجاویز پیش کی گئیں جن سے مجموعی طور پر 1470 ملین روپے کی آمدنی متوقع ہے. سٹیمپ ایکٹ 1899 کے سیکشن 27 میں ترمیم تجویز کی گئی جس پر ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جو معاملات کا جائزہ لیکر تجاویز منظوری کے لیے وسائل سے متعلق امور کی کمیٹی کو پیش کرے گی. اس کے علاوہ تین اور تجاویز کی بھی منظوری دی گئی جن میں جائیداد کی خریدوفروخت کے اشٹامپ پیپر ڈسٹرکٹ کلکٹر کی جانب سے لگائے جانے والے جرمانے کی حد میں اضافہ اور سٹیمپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس شامل ہے. دیگر چار تجاویز پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا جن میں سٹیمپ ایکٹ 1899ءکی شق 22A میں ترمیم، اور جائیداد کے کاغذات کے نامکمل ہونے کی صورت میں پندرہ فیصد جرمانے کی تجاویز شامل ہیں. اس کے علاوہ رجسٹریشن ایکٹ 1908 کے تحت رجسٹریشن فیس کی مد میں فی کس بیس روپے،100 روپے اور پانچ ہزار روپے تک اضافہ کی تجویز بھی منظور کرلی گئی. فیصلے کے مطابق فیس کی شرح ایک ہزار روپے سے زیادہ نہیں بڑھائی جائے گی. اس سے 285ملین روپے کی آمدنی متوقع ہے. پنجاب فنانس ایکٹ 2010ءکے تحت دیہی زمینوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی تاہم اس معاملے کو دیگر ٹیکس تجاویز کے ساتھ ڈسکس کرنے کی ہدایت جاری کی گئی. اس کے علاوہ میوٹیشن ٹیکس 3فیصد کی شرح سے دیہی جائیداد پر لگانے کی منظوری دے دی گئی. اس سے مجموعی طور پر 3255ملین روپے کی آمدن متوقع ہے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top