‘ کریم ٹیکسی میں بیٹھتے ہی پاکستانی لڑکی کو زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا

لاہور (قدرت روزنامہ19-اپریل-2017) پاکستان میں نئی طرز کی پرائیویٹ ٹیکسی کمپنیوں کی آمد ہوئی تو خواتین نے سکھ کا سانس لیا کہ اب ان کے مسائل میں کچھ کمی آئے گی، لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ ڈرائیوروں کے بھیس میں چھپے کچھ اوباش ان کا پیچھا چھوڑنے والے نہیں. لاہور سے تعلق رکھنے والی دو لڑکیوں کو حال ہی میں ایک ایسے ہی اوباش ڈرائیور کی وجہ سے زندگی کے خوفناک تجربے سے گزرنا پڑ گیا.

ویب سائٹ Parhloکی رپورٹ کے مطابق متاثرہ لڑکیوں میں سے ایک نے سوشل میڈیا پر اپنے خوفناک تجربے کا احوال بیان کیا ہے. واحلہ بابر نامی یہ لڑکی لکھتی ہیں ”آج میں کریم ٹیکسی سروس کے ذریعے ائیرپورٹ جارہی تھی. ٹیکسی ڈرائیور نے جھوٹ بولا کہ وہ اپنی ماںکے ساتھ ویڈیو کال کررہا تھا کیونکہ دراصل وہ ایک خوفناک شکل والے مرد سے ویڈیو کال کررہا تھا. اس نے گاڑی کی لائٹ آن کی اور کیمرہ میری اور میری 19 سالہ کزن کی جانب کرتے ہوئے اس شخص سے کہنے لگا ’میں ان لڑکیوں کو ائیرپورٹ لیجارہا ہوں.‘ میرے منع کرنے کے باوجود اس نے بار بار موبائل فون کا استعمال جاری رکھا. اس نے چائلڈ لاک بھی آن کررکھا تھا . میں نے گھبر اکر اپنی منزل تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے کہا کہ وہ ہمیں سب وے پر اتار دے، اور میرا خیال ہے کہ وہ ہماری نئی منزل کے بارے میں بھی کسی کو خفیہ طور سے بتارہا تھا. اس نے موبائل فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے ہماری طرف دیکھا اور کہا ’یہ دو ہیں.‘ میں نے اسے کینال بینک روڈ پر جانے کو کہا تھا لیکن اس نے میری بات نظر انداز کرتے ہوئے ایک زیر تعمیر ہاﺅسنگ سوسائٹی کے اندر کا راستہ اختیار کیا. ایک ہسپتال کے قریب میں نے زبردستی ٹیکسی رکوائی اور وہاں سے رکشہ لیا. ان کی ویب سائٹ پر رابطے کے لئے کوئی نمبر نہیں ہے جبکہ ہیلپ لائن سے صرف ایک مشین ہدایات دے رہی ہے کہ کریم سروس کو کیسے استعمال کرنا ہے. مجھے اتنے خوف کا سامنا پہلے کبھی نہیں کرنا پڑا اور میں نہیں چاہتی کہ کسی اور کے ساتھ ایسا ہو. اس لئے براہ کرم اس ٹیکسی سروس کا استعمال نہ کریں.“..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top