سنگاپور کی ایک عدالت نے اپنے ہم وطن کے قتل کے الزام میں گرفتار دو پاکستانیوں کو موت کی سزا سنا دی ہے

لاہور (قدرت روزنامہ17-فروری-2017) سنگاپور کی ایک عدالت نے اپنے ہم وطن کے قتل کے الزام میں گرفتار دو پاکستانیوں کو موت کی سزا سنا دی ہے ہے. ان دونوں نے تقریباً اڑھائی سال قبل جوا کھیلنے کے دوران ہونے والے جھگڑے میں اپنے ہی ایک ساتھی کو قتل کر دیا تھا .

سزائے موت پانیوالے ان دو پاکستانیوں میں 45 سالہ رشید محمد اور28 سالہ رمضان رضوان ہیں. جبکہ ان کے ہاتھوں قتل ہونیوالے پاکستانی شہری کا نام محمد نور بتایا گیا ہے. دونوں مجرموں نے اپنے اپارٹمنٹ میں مقتول کو قتل کر کے اُس کی لاش کے ٹکڑے کر دیے تھے. قتل کی یہ واردات سن 2014 میں کی گئی تھی.مقتول محمد نور کی نعش کے ٹکڑے پولیس کو دو سفری صندوقوں میں شہر کے مختلف مقامات سے ملے تھے. سنگاپور کی عدالت کے جج چُو ہان ٹیک نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا کہ دونوں مجرم باہمی رضامندی سے اس سنگین جرم میں ملوث ہوئے . دونوں مجرمان کے وکلا نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا تھا کیا کہ وہ قتل کا ارتکاب نہیں کرنا چاہتے تھا اور ہاتھا پائی میں مقتول کی موت واقع ہو گئی تھی. یاد رہے کہ عدالت میں رشید اور رمضان ایک دوسرے پر قتل کا الزام لگاتے رہے . رشید احمد اور رمضان رضوان 2014 میں سنگاپور پہنچے تھے اور وہ اس شہری ریاست کی سڑکوں پر اشیا فروخت کیا کرتے تھے. تاش کے پتوں پر محمد نور اور رمضان رضوان کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا تھا مجرم رمضان جوا کھیلتے ہوئے گیارہ سو سنگاپورین ڈالر (776 امریکی ڈالر) ہار گیا تھا. اس ہار کا بدلہ لینے کے لیے مقتول کو پہلے ٹی شرٹ گلے پر ڈال کر ہلاک کیا گیا اور پھر ایک آری سے اُس کی لاش کو ٹکڑوں میں تبدیل کر دیا گیا.ایک 81سالہ شخص نے مقتول محمد نور کی سربریدہ لاش کا صرف دھڑ دیکھ کر پولیس کو مطلع کیا تھا. پولیس نے شک کی بنیاد پر رمضان اور رشید کو شامل تفتیش کر لیا. بعد میں مجرم رشید پولیس کو مقتول کے سر، بازو اور ٹانگوں والے سفری صندوق تک لے گیا. ان صندوقوں کی تصاویر اور شواہد استغاثہ نے عدالت میں پیش کیے تھے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top