سوشل میڈیا پر پاکستان میں بھی دنیا بھر کی طرح ویلنٹائن ڈے منایا گیا

لاہور (قدرت روزنامہ16-فروری-2017)بین الاقوامی نشریاتی ادارےبی بی سی نے بسنت اورویلنٹائن ڈے کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے ..

.سوشل میڈیا پر پاکستان میں بھی دنیا بھر کی طرح ویلنٹائن ڈے منایا گیا. سماجی رابطوں ویب سائٹس پر بہت سے صارفین نے اس دن کے حوالے سے اپنے پیاروں کو پیغامات بھی دیے.کچھ لوگوں نے اس دن کی نسبت سے اپنے ملک سے بھی محبت کا اظہار کیا.حمزہ نامی ایک صارف نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ’ اگر ویلنٹائن کا مطلب سچی محبت ہے تو پاکستان میرا ویلنٹائن ہے.پاکستان میں ہر سال کی طرح اس بار بھی ویلنٹائن ڈے کی آمد سے قبل یہ بحث شروع ہو چکی تھی کہ آیا اس دن کو منانا ‘جائز’ ہے یا نہیں.ویلنٹائن ڈے سے ایک روز قبل ایک شہری کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے حکم دیا کہ عوامی مقامات پر ویلنٹائن ڈے نہ منانے دیا جائِے.عدالت کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے لوگ اپنا اپنا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کر رہے ہیں.سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ ویلنٹائن ڈے کو منانا مغربی ثقافت کی بے جا تقلید قرار دے رہے ہیں تو بہت سے ایسے بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ اسے محبت کے ایک تہوار کے طور پر دیکھا جائے نہ کہ کسی مذہبی تہوار کے طور پر.پاکستان کے امریکہ میں سابق سفیر حسین حقانی نے اس حوالے سے ایک ٹوئٹ کی جس سے سوشل میڈیا پر خوب بحث چھڑ گئی.حسین حقانی نے ویلنٹائن ڈے منانے کو مغرب کی بےجا تقلید قرار دینے والوں پر طنز کرتے ہوئے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ‘ویلنٹائن ڈے اور بسنت ہندوؤں اور گوروں کے تہوار ہیں، اور یہ کرکٹ تو محمد بن قاسم نے شروع کی تھی.حسین حقانی کی اس ٹویٹ کے جواب میں اب تک سینکڑوں ٹویٹس ہو چکی ہیں.ایک صارف یاسمین نے حسین حقانی کو کو جواب دیتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ ‘حسین حقانی صاحب آپ غلط تقابل کر رہے ہیں. ایک کھیل اور بیرونی ثقافت کو پاکستان پر تھوپنے کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا.حسین حقانی کی اس ٹویٹ کو جہاں بہت سے لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا وہی بہت سے لوگوں نے اسے سراہا بھی ہے اور اب تک یہ پانچ سو سے زیادہ بار ری ٹویٹ ہو چکی ہے.(ش س م)..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top