داتا دربار کے قریب ہوٹلوں میں جسم فروشی کا دھندہ، پولیس ملوث

لاہور (قدرت روزنامہ12فروری2017)داتادربار کے قریب ہوٹلز میں دعوت گناہ کی لوٹ سیل، جسم فروشی کا دھندہ عروج پر، شراب و منشیات کا استعمال، انتظامیہ کی جانب سے بھی خوبرو لڑکیوں کی پیشکش، آنے والے جوڑوں سے من مانے ریٹ، گھنٹہ یا پوری نائٹ ایک سے تین ہزار روپے خرچ کریں اور موج مستی کریں. ہوٹل کے ایجنٹوں نے لڑکیوں کی تصاویر اور ان کے نمبرز کی لسٹیں تیار کررکھی ہیں، پولیس اہلکار منتھلیاں لے کر خاموش تماشائی بن گئے.

برائے نام چھاپوں کے باوجود مکروہ دھندہ ختم نہ ہوسکا، نوجوان نسل کا متقبل تباہ ہونے لگا. تفصیلات کے مطابق داتادربار کے نزدیکی ہوٹلوں میں الرحمن ہوٹل، گلف ہوٹل، دربار ویو ہوٹل، داتادربار ہوٹل، ہجویری ہوٹل، مدنی ہوٹل، شاہد ہوٹل، غازی ہوٹل، نیو داتا ہوٹل، وادو ہوٹل، شیش محل ہوٹل، الجہادی ہوٹل، اصل سستا ہوٹل، نیو شاہ جمال ہوٹل، حبیب ہوٹل اور داتاگنج بخش ہوٹل میں سرعام جسم فروشی کا دھندہ عروج پر ہے. ساری رات محفلیں سجنے کے ساتھ ساتھ دن دیہاڑے بھی جوڑوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جبکہ انتظامیہ بھاری رقوم کے عوض کمروں میں ٹھہرنے والوں کو خود ساختہ طور پر بھی خوبرو لڑکیوں کی پیشکش کرتے ہیں جس کے لئے منہ مانگے دام وصول کئے جاتے ہیں. ہوٹل میں آنے والے جوڑوں سے من مانی قیمت ایک ہزار سے لے کر تین ہزار روپے تک وصول کئے جاتے ہیں اور اصل ناموں کی بجائے رجسٹرڈ پر فرضی ناموں اور فرضی شناختی کارڈ نمبر اندراج کردئیے جاتے ہیں. انتظامیہ نے نائٹ ہو یا کچھ عرصہ کے لئے کمرہ درکار ہو ایک جیسے ہی ریٹ مقرر کررکھے ہیں، ہوٹلز میں موجود ایجنٹس نے لڑکیوں کے نام اور نمبرز کی لسٹیں بنا رکھی ہیں جنہیں مخصوص گاہکوں کے آنے پر بلایا جاتا ہے. ان کی طرف سے عام لوگوں کو بھی دعوت گناہ کی دعوت دی جاتی ہے، ہوٹلوں میں جسم فروشی کے علاوہ شراب و منشیات کا کام بھی جاری ہے. ہوٹلوں میں آنے والے افراد خود بھی شراب و منشیات لاکر کمروں میں اس کے مزے لوٹ سکتے ہیں بلکہ ہوٹلز انتظامیہ کی جانب سے اضافی رقم کے عوض شراب و منشیات خریدی جاسکتی ہیں. ہوٹلوں میں پولیس سے بچاﺅ کے لئے جوڑوں کو فیملی ثابت کیا جاتا ہے اور چھاپوں کے خطرے کے باعث انہیں پہلے ہی آگاہ یا پھر کمروں سے نکال دیا جاتا ہے جبکہ پولیس کے کئی اہلکار انتظامیہ کی سرپرستی کا کام کررہے ہیں اور منتھلیاں وصول کرنے کے باعث مکروہ دھندہ روکنے کی بجائے سب اچھا کی رپورٹ دینے لگے ہیں. علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جسم فروشی کا دھندہ سرعام ہورہا ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل کا مستقبل داﺅ پر لگاہوا ہے جس کے خلاف متعدد بار تھانوں میں درخواستیں دے چکے ہیں مگر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی. ہوٹلوں کی انتظامیہ کو اس دھندے کو ختم کرنے کے لئے گزارش کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم یہ ختم نہیں کرسکتے تمہیں جو کرنا ہے کرلو. ہوٹلوں کے قریب لڑکیوں پر آوازیں کسنے اور چھیڑ خانی کے واقعات بھی عام ہوچکے ہیں. ڈی ایس پی لوئر مال سرکل ملک عبدالغفور نے مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جسم فروشی کا دھندہ کرنے والے کے خلاف کارروائی کررہے ہیں. تھانوں میں 8 مقدمات درج کئے ہیں اور جوڑے بھی پکڑے ہیں، علاقہ سے اس مکروہ دھندے کا خاتمہ کرکے دم لیں گے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top