اسلامی نظام معیشت پوری انسانیت کے مفادات کا ضامن ہے، مولانا محمد خان شیرانی

لاہور(اے این این)اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ اسلامی نظام معیشت معاشرے کے بعض مخصوص طبقات کی بجائے پوری انسانیت کے مفادات کاضامن ہے جبکہ سرمایہ داریت اور اشتراکیت دو انتہاؤں کی ترجمانی کرتے ہیں . ایک نظام سرمایہ دار اور دوسرا مزدور کے حقوق کا نعرہ لگاتا ہے .

سرمایہ داریت میں سرمایہ دار کو ہر طریقے سے اپنے مال کے فروغ کی اجازت ہوتی ہے جبکہ اشتراکیت حکومت کے تحت کنٹرولڈ اکانومی کو پروان چڑھاتی ہے .ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز میں منعقدہ ’’امت مسلمہ اور عالمی معاشی نظام ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ خصوصی لیکچر میں شرکاء سے کیا. اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف اسلامک سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر طاہرہ بشارت ، ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر محمد سعد صدیقی ،ڈاکٹر محمد حماد لکھوی ،سینئر فیکلٹی ممبران ،سکالرز اور طلباؤ طالبات نے شرکت کی. اپنے خطاب میں مولانا شیرانی نے دور حاضر کے معاشی نظاموں: سرمایہ داریت اور اشتراکیت کے فکری و نظریاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے دونوں نظاموں کے مشترکات اور متنوعات بیان کیے. انہوں نے کہا کہ اسلامی نظام معیشت کوتوازن و اعتدال پر مبنی نظام قرار دیا ، جو ہدایت الٰہی اور سنتِ نبوی ﷺ کے سرچشموں سے پھوٹتا ہے. انہوں نے کہا کہ اشتراکیت میں عامل پیداوار صرف محنت اور زمین کو قرار دے کر ، اجیر کے حقوق کو انجمنوں کے ذریعے محفوظ کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور زمین کو حکومتِ وقت کی ملکت میں دے دیا جاتا ہے ، جبکہ سرمایہ داریت میں سرمایہ اور اجر کو بھی مزید پیداواری عامل کے طور پر مانا جاتا ہے . اسلام نہ صرف ان تمام پیداواری عوامل کو تسلیم کرتا ہے بلکہ انہیں کلی حکومتی یا شخصی کنٹرول میں دینے کی بجائے ان کے نقصان دہ پہلوؤں پر حکومتی کنٹرول کا داعی ہے . انہوں نے کہا کہ یہ دونوں مقابل نظام ہائے معیشت دراصل انسانی مفادات کے ترجمان اور انسانی سوچ وفکر کا نتیجہ ہے ، جبکہ اسلامی معیشت میں خالق ارض و سما نے اشرف المخلوقات انسان کیلئے ان کے مصالح و منافق پر مبنی ایک ہمہ گیر اور کامل نظام پیش کیا ہے . اسلام مال کو صرف کرنے کا نظریہ دے کر گردشِ دولت کا راستہ کھولتا ہے ، جبکہ دونوں دیگر معاشی نظام اموال و وسائل جمع کرنے کی طرف راغب کرتے ہیں . انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’تمہارا مال وہی ہے جو کھا لیا، پہن لیایا اللہ کی راہ میں صدقہ کر کے آخرت کیلئے محفوظ کر لیااورباقی بچنے والا مال ورثا کا ہے‘‘. اس نبوی نظریہ سے دولت جمع کرنے اور ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے ، اسلام صارف کی سہولت پر زور دیتا ہے ، جس کے لئے قرضِ حسنہ ، صدقہ ، عایت اور وقف کے اسالیب متعارف کراتا ہے اور رکاوٹوں کو منع کرتا ہے .انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی ، مصنوعی قلت ، اشیاء کی قیمیتں بڑھانا، مال کو بازار پہنچنے سے روکنا ، مارکیٹ سے زیادہ قیمت لینے وغیرہ سے روکتا ہے کیونکہ ان سے صارف کیلئے رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں.اپنے خطاب میں ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر محمد سعد صدیقی نے مولانا شیرانی کے خطبہ کو تینوں نظام ہائے معیشت پر جامع تبصرہ و تجزیہ قرار دیتے ہوئے ، اس خطاب کو دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مصداق بتایا. انہوں نے کہا کہ مولانا کے خطاب سے دونوں معاصر نظام ہائے معیشت کی انتہا پسندی اور جانب داری ہوتی ہے جبکہ اسلام اعتدال پرور معاشی فلسفہ پیش کرتا ہے، افسوس کے اسلام کا یہ معتدل پیغام آج دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے. انہوں نے کہا کہ اچھی بات کو معیاری اسلوب میں پیش کرنا اور متعارف کرانا بھی ضروری ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے قرآن پاک کے خوبصورت پیغام کو اپنی نبوت کی تیئس سالہ زندگی میں بڑی خوبصورتی اور وضاحت کے ساتھ پیش کیا . انہوں نے کہا کہ دورِ حاضر کے چیلنج سے عہدہ براء ہونے کیلئے ضروری ہے کہ علوم اسلامیہ کے اساتذہ و طلبہ اسلام کے معتدل پیغام کو صراحت و وضاحت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے کی جدوجہد کریں . بعد ازاں ڈاکٹر محمد حماد لکھوی نے دعائیہ کلمات کہے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top