میاں نواز شریف کی قید کے دنوں کا وہ واقعہ جب شیخ رشید نے بیگم کلثوم نواز کو اپنے در سے خالی ہاتھ لوٹا دیا

b5

لاہور (قدرت روزنامہ10فروری2017)خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء چیمہ اپنے آج کے کالم میں لکھتی ہیں . بیگم کلثوم نواز نے پرویز مشرف کے دور میں جو افسوسناک سلوک دیکھا اس کے بعد تہیہ کر لیا تھا کہ وہ اپنی اولاد کو سیاست سے دور رکھیں گی.

بیگم کلثوم نے چہروں سے نقاب اترتے دیکھے ہیں. جب نواز شریف قید تھے تو اسوقت بیگم کلثوم نواز کو راولپنڈی کے ورکزر نے مسلم لیگ ہاوس اقبال روڈپر دعوت دی اس میں شیخ رشید احمد کو دعوت نہ دی جب وہ وہاں سے گذرے تو انہوں نے کہا بیگم صاحبہ یہ ورکرز سب بدمعاش اور لفنگے ہیں آپ لال حویلی میں آئیں میں آپ کی دعوت کرتا ہوں . جب بیگم کلثوم نواز شریف لال حویلی پہنچیں تو شیخ رشید احمد نے کہا کہ میں معذرت خواہ ہوں میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتا آپ سیڑھیاں واپس اتر جائیں‘ اس وقت بیگم کلثوم نواز شریف نے کہا کہ آپ نواز شریف کے نام پر چھ دفعہ وزیر بنے میں تو چلی جاؤں گئی لیکن آپ نواز شریف کو یاد رکھیں گے لیکن وقت گذر چکا ہوگا.نواز شریف کو تیسری مرتبہ اقتدار ملا. شائد چوتھی مرتبہ بھی مل جائے لیکن زوال میں جن ورکروں نے زخم دئیے وہ یاد ہیں. ہمارا قلم نواز شریف کی غلطیاں نظر انداز نہیں کر سکتا لیکن ان کے اوصاف بھی نظر انداز نہیں کرتا. پاکستان کے وزیر اعظم کی اصلاح بھی اس قلم کا فرض ہے.بیگم کلثوم نواز نے کہا کہ وہ اپنے بیٹوں کو سیاست میں آنے کی اجازت نہیں دیں گی لیکن بیٹی کو اجازت مل گئی ؟ حالانکہ شریف خاندان میں بیٹیوں کا معاملہ زیادہ نازک تصور کیا جاتا ہے. بیگم کلثوم کو بھی حالات نے باہر نکلنے پر مجبور کیا تھا اور وہ تجربہ بیگم کلثوم زندگی بھر فراموش نہیں کر سکتیں. بیٹوں کو سیاست سے دور رکھا گیا اور بیرون ملک سیٹ کر دیا جبکہ بیٹی مریم کو سیاست میں عملی طور پر قدم رکھنے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ حکومتی نظام کی منتظمہ بنا دیا. پاکستان کا معاشرہ جب گندگی کی طرف آئے تو بہو بیٹیوں کا احترام بھول جاتا ہے. بے نظیر بھٹو کا خاندانی پس منظر لبرل تھا.محترمہ بے نظیر کی پرورش لبرل والدین اور ماحول میں ہوئی ، ان کا سیاست میں قدم رکھنا باپ کی پھانسی وجہ بنا. محترمہ نے آزاد مغربی ماحول سے پاکستان کے تنگ مشرقی ماحول میں خود کوڈھالنے کی کامیاب کوشش کی. الا ما شا للّٰہ گندے ذہنوں نے پھر بھی نہ بخشا. حتی کہ محترمہ کی لبرل ماں کو بیٹی کی روایت کے مطابق شادی کرنا پڑی. پاکستانی معاشرے کا منہ بند کرنے کے لئے محترمہ نے آصف زرداری جیسے شوہر کے ساتھ نبھا کیا. اپنی سیاسی زندگی کو کامیاب رکھنے کے لئے مشرقی روایات کو قبول کیا. معاشرے کی گندے الزامات کو بھی نظر انداز کرتی رہیں. میاں شریف کے خاندان کا معاملہ برعکس ہے. نہ شریف خاندان لبرل ہے اور نہ پیپلز پارٹی جیسی وجہ شہرت کا متحمل ہے. شریف خاندان مسلم لیگ ،روایتی مذہبی اور مشرقی اقدار کا قائل ہے. ان کے ہاں بہو بیٹیوں سے متعلق بیہودہ زبان اور الزامات کو برداشت نہیں کیا جاتا. مریم نواز بے نظیر بھٹو کی طرح میدان سیاست میں ذاتی کردار پر اعتراضات کی متحمل نہیں ہو سکیں گی...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top