طلبہ یونین پر عائد پابندی كوکیا جائے: سیکرٹری جنرل اسلامی جمعیت طلبہ

لاہور (قدرت روزنامہ09فروری2017) پاکستان بھر میں طلبہ یونین پر پابندی کو 33 سال مکمل ہوگئے، سابق صدر ضیا الحق نے اپنے دور حکومت میں 9 فروری 1984 کو بڑھتے ہوئے جھگڑوں کے پیش نظر طلبہ یونینز پر پابندی عائد کی تھی. تفصیلات کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سیکرٹری جنرل محمد عامر نے اس پابندی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ9 فروری 1984 کو مارشل لاءحکومت نے تعلیمی اداروں میں طلبہ کے جھگڑوں کو بنیاد بنا کر طلبہ کے جمہوری حق طلبہ یونین پر پابندی لگا دی تھی حالانکہ پابندی کے بعد ان واقعات میں کئی گنا زیادہ اضافہ ہوا ہے.

انہوں نے یونین پر پابندی کے بعد اور اس سے پہلے ہونے والے جھگڑوں کی تحقیقاتی رپورٹ بھی جاری کی.

 رپورٹ کے مطابق 1947 تا 1984 (36سال) کے دوران ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں 151 طلبہ تصادم ہوئے جبکہ 1985 سے 2017 تک 33 سالوں میں طلبہ یونین کی پابندی کے دوران 829 طلبہ تصادم ہوئے. طلبہ یونین کے دوران 36 سالوں میں 13 طالب علم قتل جبکہ پابندی کے 33 سالوں میں 149 طلبہ قتل ہوئے. زخمی ہونے والے طلبہ یونین دور کے 36 سالوں میں 284 تھے جبکہ پابندی کے دوران 3140 طلبہ زخمی ہوئے. اسی طرح طلبہ یونین کے دور میں 800 طلبہ گرفتار ہوئے اور پابندی کے سالوں میں 11226 طلبہ کو گرفتار کیا گیا. تعلیمی اداروں کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے یونین دور میں 110 طلبہ کا اخراج کیا گیا جبکہ یونین پر پابندی کے بعد اب تک 2250 طلبہ کا اخراج کیا جا چکا ہے.انہوں نے کہا کہ طلبہ یونین پر پابندی غیر آئینی اقدام ہے جس سے طلبہ کی نشو و نما رک گئی ہے اس لیے حکومت فوری طور پر یونینز پر عائد پابندی ہٹائے.
 واضح رہے کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی جیسی شخصیات سمیت ایم کیو ایم کی مرکزی قیادت نے طلبہ یونینز کے بطن سے ہی جنم لیا تھا.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top