بھارت سے درآمد کردہ مرغی کی فیڈ میں سور کے گوشت اور چربی کے استعمال کاانکشاف

لاہور (قدرت روزنامہ08فروری2017) بھارت سے درآمد کردہ مرغی کی فیڈ میں سور کے گوشت اور چربی کے استعمال کاانکشاف ہوا ہے. پنجاب اسمبلی میں فیڈ بند کرنے کے لیے قرارداد جمع کرادی گئی.

اطلاعات کے مطابق بھارت سے پاکستان درآمد کی گئی مرغی کی فیڈ میں سور کے گوشت اور چربی کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد پنجاب اسمبلی میں اس حرام فیڈ کے خلاف قرارداد جمع کرادی گئی.قرارداد مسلم لیگ ق کے رکن اسمبلی چوہدری عامر سلطان چیمہ نے جمع کرائی جس میں کہا گیا کہ بھارت سمیت دیگر ممالک سے منگوائی جانے والی یہ فیڈ بند کرائی جائے اور حکومت مقامی فیڈ کے استعمال کو یقینی بنائے.

قرارداد میں چوہدری عامر سلطان چیمہ نے کہا کہ فیڈ ڈیلرز نے سور کے گوشت کے استعمال کی تصدیق کی ہے.یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ مرغی کا گوشت حلال ہے تاہم بھارت سمیت دیگر ممالک سے آنے والی یہ فیڈ بند کراکے حکومت مقامی سطح پر فیڈ کا استعمال یقینی بنائے.عامر چیمہ کی قرارداد کے بعد پنجاب اسمبلی میں یہ بحث بھی چھڑ گئی کہ ایسی مرغی حلال ہے یا حرام.حرام فیڈ کھانے والی مرغی حرام ہے یا حلال اس بارے میں عالم دین علامہ راغب نعیمی نے بتایا کہ سور کے گوشت کا ایک ذرہ بھی حرام ہے.اس کی ملاوٹ شدہ فیڈ فروخت کرنا بھی حرام ہے اور ایسی خوراک جس میں سور کا گوشت یا چربی شامل ہو وہ فیڈ کھانے والی مرغی کھانا اور اسے فروخت کرنا بھی حرام ہے.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top