یوں تو ہمارے معاشرے میں کئی طرح کی خرابیاں پائی جاتی ہیں مگر خواتین کو جس طرح سرعام ہراساں کی جاتا ہے

لاہور (قدرت روزنامہ06فروری2017)یوں تو ہمارے معاشرے میں کئی طرح کی خرابیاں پائی جاتی ہیں مگر خواتین کو جس طرح سرعام ہراساں کی جاتا ہے، وہ بحثیت معاشرہ ہم سب کے لئے شرم کا مقام ہے. اس بے حیائی کا ارتکاب کرنے والوں میں زرا سی بھی شرم ہو تو ویب سائٹ مینگو باز پر شائع ہونے والی اس تحریر اور اپیل کو پڑھ کر توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں.

یہ فکر انگیز تحریر قلمبند کرنے والی خاتون لکھتی ہیں ”جب ایک روز میں اپنے دوپٹے کو اپنے کندھوں پر درست کررہی تھی تو مجھے آواز آئی ’میں صدقے!‘ میں محسوس کرسکتی تھی کہ تاریک نگاہیں مجھے ہر زاویے سے تک رہی تھیں، جبکہ میری اپنی نگاہیں زمین پر گڑی تھیں. مجھے معلوم تھا کہ میں نے مکمل پردہ کیا ہوا تھا لیکن یوں لگ رہا تھا جیسے میں برہنہ تھی اور ہر قدم پر مجھے پامال کیا جا رہا تھا. وہ لوگ جو (بظاہر) مجھے باجی کہتے ہیں انہی میں سے کچھ مجھے ’غلطی سے‘ چھونے، ہاتھ لگانے اور ساتھ ٹکراجانے کے مرتکب ہو چکے ہیں. مجھے زندہ رہنا ہے اور اپنے کام کرنے ہیں، لہٰذا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ایسے چھچھوروں کا سامنا کروں.

 یہ صرف میری کہانی نہیں، بے شمار دیگر خواتین بھی ایسا ہی محسوس کرتی ہیں. خواتین پر آوازیں کسنا ہر جگہ پایا جانے والا مسئلہ ہے. یہ صرف کم عمر لڑکیوں کا مسئلہ نہیں ہے. میں اپنی دادی اماں کو ہراساں کئے جانے کا منظر دیکھ چکی ہوںِ جبکہ بے حیائی کرنے والا شخص یوں خوش ہورہا تھا جیسے یہ کوئی بے حد مزاحیہ کام ہو. میری ایک دوست جب محض 12 سال کی تھی تو ایک بار مردوں کے ایک غول نے اسے گھیر لیا تھا. سو، ہر عمر کی خواتین، چاہے پردہ کرتی ہوں یا نہ کرتی ہوں، انہیں انسانوں کی بجائے اشیاءکے طور پر دیکھا جاتا ہے. کیوں؟ اس تجربے سے گزرنے والی اکثر خواتین کو ذہنی دباﺅ اور ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے. یہ دنیا کا سامنا کرنے سے گھبرانے لگتی ہیں. میں خود اتنی پریشان ہوتی ہوں کہ قریبی سٹور تک اکیلے جانے سے گھبراتی ہوں. میں بھی انسان ہوں، آپ کو ہرگز حق نہیں پہنچتا کہ آپ میرے ساتھ ایسا سلوک کریں.“
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top