مجھے یاد ہے لندن میں ایک دفعہ مجھے ایک دفعہ پاکستانی نوجوان ملا۔ اس نے پیشکش کی اگر میں کچھ مفت پونڈز کمانا چاہوں تو اس کے پاس ایک فارمولا ہے۔

b3

لاہور (قدرت روزنامہ06فروری2017)معروف کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ..

.مجھے یاد ہے لندن میں ایک دفعہ مجھے ایک دفعہ پاکستانی نوجوان ملا. اس نے پیشکش کی اگر میں کچھ مفت پونڈز کمانا چاہوں تو اس کے پاس ایک فارمولا ہے. فارمولا یہ تھا کہ میں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ گاڑی میں جارہا ہوں گا . کوئی اور گاڑی ہلکی سی ٹکرائے گی وہ جانیں اور انشورنس جانے.

میں حیرت سے اسے دیکھتا رہا جس کا باپ کبھی مظفرگڑھ کالج میں پرنسپل کا بیٹا تھا . وہ نوجوان اور اس کی بیگم لندن لوٹنے سے قبل پورے لندن کے بنکوں کو لوٹ کر لوٹے کریڈٹ کارڈ پر ہرقسم کا فراڈ کیا . اب وہ دونوں میاں بیوی لندن سے لوٹنے کے بعد ایک اور ملک میں جابسے ہیں اوروہاں بھی یہی کام فرما رہے ہوں گے. ایک اور جاننے والے نے پیشکش کی کہ اگر لندن میں، میرا مستقل رہنے کا ارادہ ہو اور فلیٹ خریدنے کے لیے بنک سے قرضہ لینا ہو تو بھی اس کے پاس فارمولا ہے. فارمولا یہ تھا میرے پاسپورٹ میں وہ کچھ تبدیلیاں کردیں گے. میں حیرانی سے دیکھتا رہا کہ کیسے کیسے کام ہم ان معاشروں میں کرتے ہیں جہاں دوسرے پر اعتماد کیا جاتا ہے.ایک دفعہ الفریڈ ایکسچنج کی ایک دوکان میں میری بیوی کو ایک انگوٹھی اچھی لگی‘ خرید لی. سیلز ویمن بولی اگر بیس پونڈز دے دیں تو وہ انشورنس کردیں گی. پوچھا اس سے کیا ہوگا؟ بولیں اگر انگوٹھی گم ہوگئی تو آپ کو نئی مل جائے گی یا قیمت واپس. میں نے کہا اس کے لیے کیا ثبوت درکار ہوگا کہ انگوٹھی چوری ہوگئی‘ وہ بولی کوئی زیادہ نہیں‘ یہ رسید اپنے پاس رکھیں. آپ ہمیں کہہ دیں گے کہ چوری ہوگئی تو ہم نئی دے دیں گے. اس کے نزدیک ہم جھوٹ نہیں بولیں گے. پہلے میرا جی چاہا کہ انشورنس لے لوں. پھر کچھ سوچ کر بغیر انشورنس انگوٹھی لے کر ہم دونوں دکان سے باہر نکل آئے.

کتنے مہنگے ٹیلی فونز لندن میں اس طرح کلیم کیے گئے پاکستان آکر انہیں بیچ دیا‘ واپسی پر انشورنس پر نیا کلیم کر لیا. ہم نے ان معاشروں کو اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ وہ ہم سے تنگ ہیں. پھر ہمارے اوپر ایک اور بھوت سوار ہوجاتا ہے کہ اب یہ معاشرے ہمارے مرضی کی زندگی گزاریں. جن حالات میں ہم وہاں پہنچتے ہیں وہ سب کو علم ہے. جونہی ہمارے قدم جم جاتے ہیں اور کچھ پونڈز یا ڈالرز ہماری جیب میں آجاتے ہیں تو ہماری اگلی منزل یہ ہوتی ہے کہ اب ان معاشروں کو اپنی مرضی اور اپنے مذہب پر ڈھالا جائے. اس کے بعد مسائل شروع ہوجاتے ہیں. ہمارے بچے کچھ بڑے ہوجائیں تو ہمیں پورا مغربی معاشرہ ہی برا لگنے لگتا ہے اور غیرت جاگ جاتی ہے.

مجھے یاد ہے 2010ء میں، میں، ارشد شریف اور مرزا ناروے گئے. وہاں ہمیں ایک محکمے نے بریفنگ دی. ان کا کہنا تھا سب سے زیادہ پرابلم پاکستانی تارکین وطن کی وجہ سے ہوتے ہیں. پہلے تو ان کی نسلوں کو ناروے کے کلچر میں ڈھالنے کے لیے برسوں محنت کرتے ہیں‘ جب ان کے بچوں کی شادیوں کا وقت آتا ہے تو یہ پاکستان جا کر اپنے گائوں میں اپنی کزنوں سے شادیاں کریں گے. اپنی برادری کی لائیں گے.پھر گائوں کے لڑکے اور لڑکیاں یہاں آکر ایڈجسٹمنٹ کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں‘ کزنز میرج کی وجہ سے مسائل اور بڑھ گئے تھے. وہ نارویجن حیران تھے کہ یہ پاکستانی یہاں ایک دوسرے سے شادیاں کیوں نہیں کرتے. یہ ہزاروں میل دور سے دلہن یا دولہا کیوں لاتے ہیں؟ شاید یہی وجہ تھی کہ 2007ء میں لندن کے اخبار میں ایک سروے پڑھا جس کے مطابق 63 فیصد یورپین نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو یورپ میں امیگریشن کی اجازت نہ دو کیونکہ یہ ہمارے لیے خطرہ ہیں ہماری روز مرہ زندگی کے لیے خطرات ہیں.

یقینا سب مسلمان اور پاکستانی ایسے نہیں ہیں. بہت ساروں نے ہمارے نام بھی اونچے کیے ہیں. لیکن کیا کریں، یہ انسانی فطرت ہے کہ نیگٹو چیز کا اثر زیادہ ہوتا ہے.امریکہ میں یہ بات میں نے واضح دیکھی کہ وہاں مسلمان مقامی معاشرے سے ہٹ کر رہتے ہیں، کم میل جول رکھتے ہیں. اپنی شناخت کے چکر میں وہ اس معاشرے سے کٹ کر رہ جاتے ہیں جس کو کبھی جنت سمجھتے تھے. ہرجگہ بنک فراڈ اور کریڈٹ کارڈز میں ہمارے لوگ سرفہرست پائے جاتے ہیں . مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا کہ وہ کیا وجوہ ہیں جس کی بنیاد پر اتنی بڑی تعداد میں ٹرمپ جیسے بندے نے ووٹ لیے اور صدر بن گیا. اس کی مسلمانوںسے نفرت الیکشن سے پہلے واضح تھی. پھر بھی اسے ووٹ ملے.

پھر بھی داد دینی چاہیے ان امریکیوں کو جو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں باہر نکلے اور مظاہرے کیے اور ابھی بھی مسلمانوں کے حق میں مظاہرے کر رہے ہیں. یورپ اور امریکہ میںرہنے والے مسلمانوں اور پاکستانیوں کو ان عام یورپین اور امریکیوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے. اب مجھے بتانے کی ضروت نہیں کہ ہم پاکستانی یا مسلمان ان عام یورپین اور امریکیوں کے ہاتھ کیسے مضبوط کرسکتے ہیں!باقی آپ سب نے کرنی تو اپنی مرضی ہے… جیسے اب ٹرمپ کررہا ہے

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top