پاکستانی پولیس کے بارے میں عوام کے خیالات کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں

لاہور (قدرت روزنامہ03فروري2017) پاکستانی پولیس کے بارے میں عوام کے خیالات کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں تاہم تمام پولیس والے ایک سے بھی نہیں ہوتے جس کی واضح مثال ”نیمن اشرف“ ہیں . نیمن اشرف پولیس کانسٹیبل ہونے کیساتھ ساتھ اچھے لکھاری اور بلاگر بھی ہیں اور معروف ویب سائٹ ”کورا“ پر صارفین کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہیں.

 انہوں نے اپنی سروس کے دوران پیش آنے والے چند دلچسپ واقعات کے بارے میں بھی بتایا جنہیں جان کر صارفین بہت محظوظ ہوئے اور انہیں سے ایک واقعہ یہاں بھی پیش کیا جا رہا ہے جسے پڑھ کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے. معروف ویب سائٹ پر ایک سوال کیا گیا کہ ” ایک پولیس افسر ہونے کے ناطے آپ کیساتھ کونسا مزاحیہ واقعہ پیش آیا.“ نیمن اشرف نے اس سوال کے جواب میں ایک کار ڈرائیور اور جسم فروش لڑکی کا واقعہ سناتے ہوئے بتایا جس کی ابتداءکچھ یوں کی گئی کہ ” ندیم اور شبانہ سے ملئے... ندیم ایک نجی تعمیراتی کمپنی میں ڈرائیور کے طور پر کام کرتا ہے جو شادی شدہ اور د و بچوں کا باپ ہے اور اس کے علاوہ اس کے بارے میں کچھ خاص بات نہیں ہے. شبانہ ایک خواجہ سرا ہے جس نے شادیوں، بچوں کی پیدائش وغیرہ کے مواقعوں پر ناچ گانے اور گلیوں میں بھیک مانگنے کا روائتی پیشہ اختیار کر رکھا ہے. لیکن شبانہ نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور جسم فروشی کا دھندہ بھی شروع کر دیا. ایک روز سخت مشقت کے بعد ندیم گھر واپس جا رہا تھا کہ اسے راستے میں سڑک کنارے شبانہ ٹہلتی نظر آئی. وہ رک گیا اور دونوں میں کچھ بات چیت ہوئی جس کے بعد وہ طے شدہ ”معاملات“ کی انجام دہی کیلئے قریبی جھاڑیوں میں گھس گئے. ندیم نے شبانہ کو تقریباً 400 روپے ادا کئے اور گھر کی جانب روانہ ہو گیا. گھر پہنچنے پر ندیم کو احساس ہوا کہ اس کی جیب سے تقریباً 30,000 روپے سے زائد رقم غائب ہے. یہ رقم اس کی 2 مہینے کی تنخواہ تھی جو اسے آج ہی ملی تھی اور یقینا اسے یہ بھی پتہ تھا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے.
n4
چند روز تک اس معاملے کی اپنے طور پر تحقیقات کرنے کے بعد ندیم پولیس سٹیشن آیا اور رپورٹ درج کرا کر شبانہ کو گرفتار کروا دیا. یہاں پر معاملہ میرے سامنے آیا (اس سے پہلے جو کہانی بتائی گئی ہے وہ اس موقع پر سامنے آئی) دونوں کا موقف سننے کے بعد میں ان کی مدد تو نہیں کر سکا البتہ ندیم سے پوچھا ضرور کہ ’تم شادی شدہ ہو ؟. اس نے کہا ہاں! میں اپنی بیوی اور بچوں سے پیار کرتا ہوں، وہ ایک سنگین غلطی تھی. میں نے شبانہ کیساتھ صرف بوس و کنار کیا اور اس سے زیادہ کچھ نہیں لیکن اسے میرے پیسے چرانے کا کوئی حق نہیں ہے، یہ میرے پیسے واپس کرے یا پھر جیل جائے.
 میں تم سے زیادہ اتفاق نہیں کرتا لیکن حیران ہو رہا ہوں کہ تم شادی شدہ اور 2 بچوں کے باپ ہونے کے باوجود شبانہ کے پاس کیوں گئے؟ مجھے یہ بتاﺅ کہ کیا تم اکثر ایسے معاملات میں ملوث رہتے ہو اور اگر تمہارے گھر والوں کو اس سب کے بارے میں پتہ چل گیا تو کیا ہو گا؟ ندیم نے جواب دیا کہ ’نہیں! یہ میری پہلی غلطی تھی اور مجھے سبق مل گیا ہے، میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا، مجھے انصاف چاہئے.‘ شبانہ سے جامع تفتیش کے بعد مجھے یہ یقین تھا کہ اس نے واقعی ندیم کے پیسے چرائے تھے اور وہ مجرم ہے. ہم اسے چوری کے الزام میں جیل میں بند کر رہے تھے اس لئے اس کی تلاشی لیتے ہوئے کچھ پیسے، نسوار کا پیکٹ، اور چابیاں برآمد کیں لیکن اس دوران اس کے کپڑے وغیرہ نہیں اتارے گئے. تلاشی کے دوران میرے سامنے جو کچھ آنے والا تھا میں اس کیلئے بالکل بھی نہیں تیارتھا. شبانہ بنیادی طور پر خواتین کے لباس میں ایک مکمل لڑکا تھا بلکہ وہ مرد ہی تھا.
میں نے شبانہ کو لاک اپ میں بند کر دیا اور اس کے جسم کے ساتھ چپکے ہوئے پاجامے سے جو کچھ نظر آ رہا تھا وہ میرا دماغ جلانے کیلئے کافی تھا. ندیم کو اگلے روز آنے کا کہہ کر بھیج دیا گیا لیکن چند گھنٹوں بعد معلوم ہوا کہ وہ ناصرف تھانے میں ہی موجود ہے بلکہ سلاخوں کے پیچھے موجود ’چور‘ یعنی شبانہ کیساتھ گفتگو بھی کر رہا ہے. میں ان کے قریب چلا گیا اور گفتگو سننے کی کوشش کی تو میرے کانوں میں آواز آئی کہ ... ’اگر تم مجھے یہاں سے باہر نکلوا دوں گے تو میں ناصرف تمہارے آدھے پیسے واپس کر دوں گی بلکہ تمہارے ساتھ ہمیشہ کیلئے جنسی تعلقات بھی قائم کر لوں گی اور تم میرے خاص گاہک ہو گے اور ہم بہت کچھ کیا کریں گے.‘ یہ سب کچھ سننے کے بعد میں خاموشی سے وہاں سے چلا گیا اور اسی رات ندیم نے اپنا مقدمہ واپس لے لیا اور شبانہ کو چھڑوا دیا. ندیم نے کہا کہ ان کے درمیان ”معاملات“ طے ہو گئے ہیں اور وہ شبانہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتا. اور میرا ردعمل تھا کہ ’ کیا تم اب...“
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top