ناصر جمشید عادی مجرم نکلے

لاہور (قدرت روزنامہ15فروری2017) برطا نیہ میں گرفتار اور بعد میں ضمانت پر رہا ہونے والے پاکستانی معطل کرکٹر ناصر جمشید کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ عادی مجرم ہیں 5 اپریل 2010ئ کو کرکٹ کی ویب سا ئٹ نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق ناصر جمشید دسویں جماعت کے انگریزی امتحان میں نقل کرتے ہوئے لاہور میں گرفتار ہوئے تھے اور 20 ہزار روپے کے زرضمانت پر رہا کئے گئے.یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پی سی بی نے ا نہیں 37 رکنی سکواڈ کیلئے منتخب نہیں کیا تھا اور اس کے ایک ماہ بعد وہ امتحان میں اپنے دوستوں حبیب اللہ، غلام مصطفیٰ اور ضیائ الحق کی مدد سے نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے.

نگران امتحانات انہیں پولیس کے حوالے کرتے وقت تک یہ نہیں جانتے تھے کہ ناصر جمشید ایک عالمی سطح کا کرکٹر ہے. ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ناصر جمشید کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کرنے امتحانی مرکز گئے تھے جوان کی غلطی تھی . انہوں نے نگران امتحانات کو صورتحال سے آگاہ کیا مگر وہ نہ مانے انہیں اور پریشان کن معاملہ کا سامنا کرنا پڑا. ناصر جمشید بنگلہ دیش پریمئر لیگ کے دوران بھی اینٹی کرپشن اہلکاروں کی تفتیش بھگت چکے ہیں. بی پی ایل میں سپاٹ فکسنگ کے الزام میں گرفتار کراچی کے بکی ساجد خان کے موبائل سے ناصر جمشید کا بینک اکائونٹ نمبر برآمد ہوا تھا. ساجد نے دوران تفتیش اعتراف کیاتھا کہ اس نے ناصر جمشید سے ڈیل کی تھی ...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top