عمران خان کا پانامہ کیس کے فیصلے پر نظرثانی کیلئے عدالت جانے کا اعلان

اسلام آباد: (نیوز ایجنسیاں ) عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا. اجلاس میں طے کیا گیا کہ ماہ رمضان تک احتجاجی جلسے جاری رہیں گے.

عمران خان کا کہنا تھا دو ججوں کا فیصلہ وزیر اعظم کے خلاف چارج شیٹ ہے، نواز شریف وزیر اعظم کے عہدے پر رہنے کا جواز کھو چکے، تمام اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم کے استعفے پر متفق ہیں. چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ اسلام آباد کے بعد اٹک اور نوشہرہ میں جلسے ہوں گے. مشاورتی اجلاس میں کوئٹہ اور سرگودھا میں بھی جلسے کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا. اجلاس کے دوران کپتان نے آئندہ جمعے کو اسلام آباد میں جلسے کے بھرپور انتظامات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے. اجلاس میں پانامہ فیصلے کے بعد اپوزیشن جماعتوں سے ملکر مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی غور کیا گیا. تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پانامہ کیس کی شفاف تحقیقات کیلئے وزیر اعظم سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے آمدہ جمعہ پر اسلام آبادمیں جلسے اور ریلی کا اعلان کیا.قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ملک کے چیف ایگزیکیٹو کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے ایسے سخت تبصرے کیے گئے ہوں.انھوں نے سوال کیا کہ فیصلے میں ججوں کی جانب سے کہی گئی باتوں کے بعد وہ کس منہ سے عوام میں جانا چاہتے ہیں.چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو وہ کہتی ہے کہ پاکستان میں انصاف کے ادارے مفلوج ہو چکے ہیں، تو یہ ادارے نواز شریف کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کیسے ان کے خلاف تحقیقات کر سکتے ہیں؟.ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں بات کرنا ان کا حق تھا جو انھیں نہیں ملا اور وہ آئندہ جمعہ کو اسلام آباد میں جلسہ منعقد کریں گے.. ان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی صرف اس وقت کامیاب ہوگی جب نوازشریف وزیراعظم نہ ہو. عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے وزیرا عظم پر تاریخی ریمارکس دیئے، دنیا میں کسی بھی ملک میں ایسا فیصلہ آتا تو حکمراں پارٹی خود وزیراعظم سے استعفا لیتی، ن لیگ کس منہ سے عوام کے سامنے جائیگی. عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز نے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کا کہا، دو ججز نے کہا کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں ہیں، سپریم کورٹ نے قطری کا خط رد کردیا ہے. ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ الزامات کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی جائے.عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم اخلاقی قوت سے حکومت کرتا ہے، ڈیوڈ کیمرون نے اخلاقی بنیاد پر عہدے سے استعفا دیا. انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام اپوزیشن کو ساتھ چلنے کی دعوت دی ہے، ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ عدالت نے مریم نواز کو بھی کلین چٹ نہیں دی ، نیلسن اور نیسکول کے بینیفشری اونر کا پتا چلانے کا کہا ہے.عمران خان نے کہا کہ عدالت نے ہمارے الزامات پر جے آئی ٹی بنائی ہے، ایک طرف سپریم کورٹ کہتی ہے کہ انصاف کے ادارے مفلوج ہو گئے ہیں، نیب کی کارکردگی سب کے سامنے ہے تو اب یہ ہی ادارے نواز شریف کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کیسے تحقیقات کریں گے، اداروں نے کام کرنا ہوتا تو نوازشریف کب کے پکڑے جا چکے ہوتے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top