پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ’’ پانامہ کا ہنگامہ ‘‘،مشترکہ اپوزیشن کا وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ ،حکومت نے مسترد کر دیا

اسلام آباد(اے این این) پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ’’ پانامہ کا ہنگامہ ‘‘،مشترکہ اپوزیشن کا وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے جسے حکومت نے یکسر مسترد کر دیا ،قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حزب اختلاف کی شدید نعرے بازی ، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں ،سپیکرکی ڈائس کا گھیراؤ،ہلڑ بازی کے باعث دونوں ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتے رہے .تفصیلات کے مطابق پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد وفاقی دارالحکومت کا سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے وزیر اعظم نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے .

سینیٹ اور قومی اسمبلی میں شدید احتجاج اور ہلڑ بازی کا مظاہرہ کیا گیا ہے.گزشتہ روز پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد آج قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس ہوئے جس میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے بازں پر کالی پٹیاں باندھ کر شرکت کی، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا جب کہ اس دوران دونوں ایوانوں میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور وزیراعظم استعفی دو کے نعرے بھی لگائے گئے.چیرمین سینیٹ رضا ربانی کی صدارت میں سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں استعفی کے مطالبے پر متفق ہیں اس لئے وزیراعظم اپنے عہدے سے مستعفی ہوں. ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی نااہلی کا 2 ججز نے بڑی دلیری سے فیصلہ دیا اور 3 ججوں نے اس فیصلے کی تردید نہیں کی بلکہ مزید تحقیقات کا حکم دیا، تین ججز نے بھی وزیراعظم کے خلاف بہت کچھ لکھا، ججز نے فیصلے میں لکھا کہ وزیراعظم اپنی صفائی پیش نہیں کر سکے لہذا اپوزیشن اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھائے گی.عدالتی فیصلے میں 3 ججزنے لکھا ہے وزیراعظم ثبوت پیش نہیں کرسکے،قطری خطوں کیعلاوہ کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، خطوط مسترد کیے جا چکے وزیراعظم خود کونااہل تسلیم نہیں کرتے تواپوزیشن استعفے کامطالبہ کرتی ہے.انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پر دھبہ لگ چکا ہے. وزیر اعظم کے استعفے پر تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہو گئیں، ہم چوکوں اور چوراہوں میں اکھٹے لڑیں گے. ملک میں ایسی صورتحال ہے جو ایوان کے قائد سے متعلق ہے.رہنما تحریک انصاف اعظم سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نوازشریف کو ڈی سیٹ کرے ، قوم کی لوٹی ہوئی دولت چھپانے پر آج مٹھائی تقسیم کی جارہی ہے ،نوازشریف اخلاق اور قانونی طور پر وزیراعظم رہنے کا جواز کھوچکے ،ایک ہی آواز آئے گی نوازشریف استعفا دو.اجلاس میں اپوزیشن کے شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا.پاناما پیپرز پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں گرما گرمی دیکھنے میں آئی،اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اوراسپیکر کے ڈائس کا گھیراو کرلیا.دوسری جانب حکومتی بینچوں پر ارکان کی حاضری کم رہی.ڈپٹی اسپیکر مرتضی جاوید عباسی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کااجلاس شروع ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے وزیراعظم سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم استعفی دیکر ایوان اور جمہوری نظام کو بچائیں کیونکہ جے آئی ٹی وزیراعظم سے تحقیقات نہیں کرسکتی جب کہ 2 ججز نے وزیراعظم کو نااہل قراردیا ہے.قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف استعفا دے کر پارلیمنٹ کو بچائیں.چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، شاہ محمود ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمدبھی ایوان میں موجودتھے .اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ حکومت ختم کرو لیکن وزیر اعظم کو استعفا دینا چاہئے، وزیر اعظم فیصلہ کریں کہ اداروں کو بچانا چاہتے ہیں یا اپنے اقتدار کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں.قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پارلیمنٹ اور جمہوریت جب کمزور ہورہی تھی، اس وقت پیپلز پارٹی نوازشریف کے ساتھ کھڑی ہوئی ، اس وقت ہمارا موقف جمہوری تھا ، جس پر ہم آج بھی قائم ہیں، ہم نے ہمیشہ مثبت سیاست کی.ان کا کہنا تھا کہ ہمیں فرینڈلی اپوزیشن ہونے کا طعنہ دیا گیا لیکن ہم نے ہمیشہ جمہوریت کو سہارا دیا، اب ہمیں احتجاج کرنا پڑرہا ہے.خورشید شاہ نے کہا کہ کل سپریم کورٹ کے دو ججز نے واضح فیصلہ دیدیا ہے، ہم جے آئی ٹی کو نہیں مانتے، وزیراعظم سے ان کے ماتحت کیا پوچھیں گے.میڈیا سے گفتگو میں پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جے آئی ٹی میں گریڈ19 کے افسران کیا کریں گے؟ آئی ایس آئی سے شریف برادران کا تعلق خاندانی ہے، اسٹیٹ بینک کا گورنر کیا تحقیقات کرے گا؟.اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ٹھیک کہا کہ یہ فیصلہ یاد رکھا جائے گا، سلام کرتے ہیں ان دو ججوں کو جنہوں نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا، تین اکثریتی ججوں نے بھی کہا کہ نواز شریف اپنی صفائی میں کوئی ثبوت فراہم نہ کرسکے.ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو تو استثنا دے دیا گیا، جوڈیشل کمیشن ہوتا اور نواز شریف پیش ہوتے تو مزا آتا، پیپلز پارٹی لائحہ عمل بنائے گی.میڈیا سے گفتگو میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ اخلاقیات کا تقاضا ہے نوازشریف کرسی چھوڑ دیں، آزادانہ تحقیق کے لئے ضروری ہے کہ وزیر اعظم استعفی دیں.سراج الحق نے کہا کہ جے آئی ٹی بنانا بہت بڑی بات ہے، کل عدالت نے وزیر اعظم کو کلیئر نہیں کیا، پاناما اسکینڈل کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہونا چاہئے، رائٹ اور لیفٹ کے بجائے رائٹ اور رانگ کی سیاست کرنی چاہئے.ان کا کہنا تھا کہ کل کا دن تاریخی دن تھا، سپریم کورٹ نے حکومت وقت کے خلاف فیصلہ دیا کہ ان کے ثبوت قابل یقین نہیں ہیں، یہ فیصلہ کامیابی کی طرف پیش قدمی ہے، ملک کی ترقی کے لئے کرپشن کے خلاف جدوجہد جاری رکھنی چاہئے، جماعت اسلامی کرپشن کے خلاف مہم چلا رہی ہے.. حکومتی رکن شیخ آفتاب کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو عوام نے منتخب کیا ہے اور یہ اپوزیشن کی بھول ہے کہ وزیراعظم اپنے عہدے سے استعفی دیں گے. رانا تنویرکا کہنا تھا کہ اگراپوزیشن اراکین بات کرنا چاہتے ہیں تو قاعدے و قوانین کے مطابق پہلے سوالنامہ پیش کیا جائے اور اس پر رائے لی جائے جس کے بعد اس سے متعلق فیصلہ کریں گے.قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما شیخ آفتاب نے کہا کہ وزیر اعظم کے حق میں فیصلہ سن کر یہ لوگ مایوس ہوگئے ہیں،اور بلا جواز واویلہ کر رہے ہیں ،اپوزیشن بھول جائے کہ وزیراعظم استعفا دینگے .شیخ آفتاب کا جارحانہ خطاب جاری تھا تو اپوزیشن ارکان ڈپٹی سپیکر کی ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر خوب نعرے بازی کی .قومی اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان کو بات کرنے کی اجازت نہ دینے پر اپوزیشن ارکان نے شورشرابہ شروع کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں جس سے ایوان مچھلی بازار بن گیا. ڈپٹی سپیکر اپوزیشن اراکین کو نشستوں پر بیٹھنے کا بار بار بولتے رہے لیکن کسی نے ایک نہ سنی . اپوزیشن کا شور شرابا جاری رہا ، ڈپٹی سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا.اجلاس کے بعد پارلیمان کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ملک کے چیف ایگزیکیٹو کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے ایسے سخت تبصرے کیے گئے ہوں.انھوں نے سوال کیا کہ فیصلے میں ججوں کی جانب سے کہی گئی باتوں کے بعد وہ کس منہ سے عوام میں جانا چاہتے ہیں.چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو وہ کہتی ہے کہ پاکستان میں انصاف کے ادارے مفلوج ہو چکے ہیں، تو یہ ادارے نواز شریف کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کیسے ان کے خلاف تحقیقات کر سکتے ہیں؟.ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں بات کرنا ان کا حق تھا جو انھیں نہیں ملا اور وہ آئندہ ہفتے اسلام آباد میں جلسہ منعقد کریں گے.سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی پارلیمانی جماعتوں کااجلاس خورشید شاہ اور اعتزاز احسن کی سربراہی میں ہوا جس میں اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم سے مستعفی ہونیکا مطالبہ کردیا.اجلاس میں پاناما پیپرز کے فیصلے پر مشاورت کی گئی اور اپوزیشن نے سینٹ اور قومی اسمبلی میں وزیر اعظم سے مستفی ہونے کا مطالبے سمیت معاملے ہر پر بھر پور احتجاج کا فیصلہ کیا گیا.سراج الحق، شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری بھی اجلاس میں شریک تھے تاہم عمران خان نے اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کی.اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سوائے حکومت کے تمام جماعتوں کو پاناما کیس فیصلہ سمجھ آ گیا ہے.ان کا کہنا تھا کہ آج قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی ہو جائیں گے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کو آج دونوں ایوانوں میں بھرپور احتجاج کرنا چاہیئے.سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید کی پارلیمنٹ ہاس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تمام جماعتیں حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس بنائیں.اپنے برجستہ انداز میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ دو مضمونوں میں فیل ہوئے اور تین میں سپلی آنے کے بعد بھی پپو پاس ہو گیا.سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو فوری طور مستعفی ہو جانا چاہیئے اور اس مطالبے پر تمام جماعتیں متفق ہیں...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top