اپوزیشن کی جانب سے استعفے کا مطالبہ گنا ہ نہیں، جو مطالبے اپوزیشن اسمبلی سے باہر کر رہی ہے وہ اگر اسمبلی کے اندر کرتے تو بہت بہتر ہوتا ،محمود خان اچکزئی

اسلام آباد(آن لائن)پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے استعفے کا مطالبہ گناہ نہیں،جے آئی ٹی بنانے کا عمل جلد مکمل کرلینا چاہیئے.تفصیلات کے مطابق پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات کیلئے وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ گناہ نہیں ہے ،تاہم حکومت ان مطالبات پر اپنا موقف پیش کردے، تحقیقات میں میاں صاحب استعفادیں یا نہ دیں، کوئی بھی مطالبہ کرسکتاہے، لوگوں کے مطالبات پرکوئی بھی جواب دے سکتاہے،انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام ججز نے سوچ سمجھ کے اچھا فیصلہ دیا ہے ،جے آئی ٹی بنانے کا عمل جلد مکمل ہو جانا چاہیئے.

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ جو مطالبے اپوزیشن اسمبلی سے باہر کر رہی ہے وہ اگر اسمبلی کے اندر کرتے تو بہت بہتر ہوتا ،پانامہ کیس کے بارے میں عدلیہ نے بہترین فیصلہ دیا ہے ہمیں فیصلے پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنا چاہیے یہ فیصلہ نہ کسی کی جیت ہے اور نہ ہی ہار ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پالیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن اراکین سے سپیکر ڈائس کا گھیراؤکر کے ہنگامہ آرائی کی ہے وہ کسی طور بھی جمہوری روایات کیلئے بہتر نہیں ہے انہوں نے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے مٹھائیاں بانٹنے پر حیرانگی ہے اور اسی طرح اپوزیشن کی جانب اسمبلی اجلاس کے دوران پٹیاں باندھنے کا کیا مطلب ہے کیا اپوزیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف کالی پٹیاں باندھی ہیں انہوں نے کہاکہ اگر ان تمام معاملات پر اسمبلی کے اندر تمام اپوزیشن اور حکومتی بنچ کے اراکین بات کر لیتے تو بہت بہتر ہوتا اور اسمبلی کے باہر بولنے کی ضرورت پیش نہ آتی انہوں نے کہاکہ جب ایک بار سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کر لیا ہے تو اس فیصلے کے تحت بننے والی جے آئی ٹی پر بھی بھروسہ کرتے انہوں نے کہاکہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز صاحبان نے پوری ایمانداری کے ساتھ یہ فیصلہ لکھا ہے اور عدلیہ نے اپنے فیصلے میں جتنی سخت باتیں لکھی ہیں مگر انہوں نے اپنے فیصلے میں وزیر اعظم کے استعفے کی تجویز نہیں دی ہے انہوں نے کہاکہ جب تک ہم پارلیمنٹ کو سپریم ادارہ تسلیم نہیں کریں گے اور عدلیہ کو ملک کا مقتدر ادارہ نہیں مانیں گے اس وقت تک ہمارے حالات درست نہیں ہوسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے پرانے گناہوں پر توبہ مانگنی چاہیے اور نئے سرے سے یہ عہد کرنا ہوگا کہ پاکستان کے تمام فیصلے پارلیمنٹ کے طابع ہونگے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top