نواز شریف کو تفتیش میں جائیداد کی ملکیت کا ثبوت اور منی ٹریل بھی دینی ہوگی،جسٹس اعجاز الاحسن

سلام آباد(قدرت روزنامہ21-اپریل-2017)پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کے پانچویں رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے موقف میں لکھا ہے کہ 26سماعتوں میںپتہ نہ چل سکا کہ مے فئیر فلیٹ کا ما لک کون ہے تاہم وزیراعظم نواز شریف کی بے نامی جائیداد کے امکان کورد نہیں کیاجاسکتا.نواز شریف کو تفتیش میں جائیداد کی ملکیت کا ثبوت دینا ہوگا اورمنی ٹریل بھی دینی ہوگی.

حسین نواز کو سعودی عرب میں ملزبنانے کے لیے آمدنی کے ذریعے بتانے ہوںگے.جسٹس اعجاز الاحسن کے مطابق نواز شریف نے احتساب کا سامنے کرنے کے لیے بلند دعوے کیاتھے جو کھوکھلے ثابت ہوئے، نواز شریف، حسین نواز، حسن نوازالزمات کو رد کرتے ہوے نظرنہیں آے، اور نہ ہی اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے دستاویزی ثبوت فراہم کیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ زیادہ تر سوالات نواز شریف ور ان کے بچول نے ان کے جوابات تسلی بخش نہ دیئے انہیں سعودیہ میں اسٹیل ملز لگانے لے لیے آمدن کے زریعے بھی بتانے ہوگے، جسٹس اعجاز الاحسن کے مطابق پنامہ کیس میں چیرمین نیب جانبدار ثابت ہوئے تاہم ہر سطح کا احتساب کرنے کا نظام واضح کرنا وقت کی ضرورت ہے ان کا کہنا ہے کہ قوم کو پتہ ہونے چاییے کہ ان پر حکومت کرنے والے آئین پاکستان پر پورااترتے ہیں یا نہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنی رائے میں یہ شعر بھی لکھا ہے کہ ’’صورت شمشیرہیدست قضامیں وہ قوم‘‘کرتی ہے جو ہرزماں اپنے عمل کا حساب‘‘.انہوں نے اپنے فیصلہ کے آخر میں مقدمہ میں دلائل دینے والے تمام وکلائ کی تعریف بھی کی ہے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top