سپریم کورٹ کا پاناما کیس ‘وزیر اعظم میاں نواز شریف نا اہل نہیں ہوئے ‘ قطر سرمایہ منتقلی اور لندن جائیداد کی تحقیقات کیلے 7 دنوں میں جے آئی ٹی بنانیکا حکم

اسلام آباد(قدرت روزنامہ20-اپریل-2017) سپریم کورٹ آف پاکستان نے دنیا بھر میں ہنگامہ برپاکرنیوالے پانامالیکس کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کیلئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے اور وزیراعظم، حسن نواز اور حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے. تفصیلات کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ ، جسٹس اعجاز افضل ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل 5رکنی لارجر بینچ 26مسلسل سماعتوں کے بعد محفوظ کیاگیا فیصلہ سنایا جا رہا ہے.

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ فیصلہ   2-3  کی اکثریت سے ہے یعنی تین جج ایک طرف اور 2 جج ایک طرف ہیں. فیصلہ 547 صفحات پر مشتمل ہے جو جسٹس رائے افضل نے تحریر کیا ہے اور اس فیصلے میں سب نے اپنی رائے دی ہے.
اناما کیس فیصلے میںوزیر اعظم بال بال بچ گئے، سپریم کورٹ کے 2ججز نے وزیر اعظم کو نااہل کرنے کا اختلافی نوٹ لکھا ہے جبکہ تین ججز نے انکے حق میں فیصلہ دیا .میڈیا رپورٹس کے مطابق پاناما کیس فیصلے میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ تقسیم ہو گیا ، فیصلے میں بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے وزیر اعظم کو نااہل کرنے کا نوٹ لکھا جبکہ دیگر تین ججز جن میں جسٹس عظمت سعید شیخ ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس اعجاز افضل نے انکے حق میں فیصلہ دیا .
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ جو بھی فیصلہ آئے اس پر عدالت کے اندر جذبات کا اظہار مت کیا جائے. میڈیا رپورٹس کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فیصلے میں قانونی و آئینی پہلوئوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور  رقم قطر کیسے منتقل ہوئی، اس کی تحقیقات کی ضرورت ہے. فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب غیر رضامند پائے گئے.اس فیصلے میں معاملے کی تحقیقات کیلئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے اور وزیراعظم، حسن اور حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے.جے آئی ٹی ہر دو ہفتے بعد رپورٹ پیش کرے گی. اناما کیس کے فیصلے پر سپریم کورٹ کے ججز تقسیم ہو گئے ، فیصلے پر تین اور دو کا تناسب ہے .
تفصیلات کے مطابق پاناما کیس کے فیصلے پر سپریم کورٹ کا 5 رکنی بینچ تقسیم ہو گیا ، تین ججز کی ایک رائے ہے جبکہ 2 ججز کی الگ رائے ہے ، فیصلہ 540 صفحات پر مشتل ہے جسے جسٹس اعجاز افضل نے تحریر کیا ہے .فیصلہ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پڑھ کر سنایا.انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تین اور دو کا ہے ، تین ججز کی رائے الگ ہے جبکہ دو کی الگ ہے. اس موقع پر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی ریڈ الرٹ ہے،ریڈزون میں عام افراد کا داخلہ بنداور بغیرپاس سپریم کورٹ کی عمارت میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ،ایس پی سیکیورٹی سپریم کورٹ احمد اقبال کی ہدایت پر سیاسی جماعتوں نے کارکنوں کو عدالت کی طرف نہ لانے، امن و امان کو ہرحال میں برقرار رکھنے اور قانون کو کسی صورت ہاتھ میں نہ لینے کیلئے کہا گیا،ریڈ زون اور سپریم کورٹ کی عمارت کی سکیورٹی پر پولیس اور رینجرز کے 1500سے زائد اہلکار تعینات ہیں.لائیو ویڈیو دیکھئے ذرائع نے بتایاکہ ہنگامی صورتحال پیدا ہونے پر ریڈزون کی عمارتوں کی سیکیورٹی کیلئے پاک فوج کے دستے تیار ہیں ،تمام سینئر پولیس افسرسکیورٹی ڈیوٹیاں خود چیک کررہے ہیں جبکہسیاسی جماعتوں کو پابند کیاگیاکہ وہ امن و امان کو ہرحال میں برقرار رکھیں اور کوئی بھی قانون کو ہاتھ میں نہ لے.پاناما کیس کے فیصلے کے کے پیش نظر کسی بھی ممکنہ رد عمل سے بچنے کیلئے سپریم کورٹ،ریڈ زون اور اہم عمارتوں کی سکیورٹی کو سخت کردیا گیا ...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top