فوجی عدالتوں کے ازسرنوفعال ہونے کے لئے پاک فوج نے 3 سال مدت کی توسیع مانگ لی

n14

اسلام آباد (قدرت روزنامہ17فروری2017)ملک میں جاری دہشتگردی کی لہر کو قابو پانے کے لئے اور ہنگامی بنیادوں پر دہشتگردوں کے مقدمات نمٹانے کے لئے قائم فوجی عدالتوں کے ازسرنوفعال ہونے کے لئے پاک فوج نے 3 سال مدت کی توسیع مانگ لی جبکہ فوجی عدالتوں کا 25ویں آئینی ترمیم کا حکومتی مسودہ پارلیمانی جماعتوں نے مسترد کردیا،یہ دعویٰ روزنامہ خبریں نے کیا.

مولانا فضل الرحمن نے مخصوص مسلک کو ٹارگٹ کرنے پر سخت تنقید کی اور نیشنل ایکشن پلان کی بھی مخالف کردی ہے، حکومت نے فوجی عدالتوں کو مانیٹر کرنے کے لئے پیپلزپارٹی کی قومی سلامتی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز کو تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی لیکن اپوزیشن اس پر مطمئن نہیں.
فوجی عدالتوں کا آئینی ترمیم کا ڈرافٹ تیار کرنے اور حکومتی بل میں ترمیم و تخفیف کرنے کے لئے 4 رکنی سب کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے. اس کمیٹی میں وزیر قانون زاہد حامد، شیریں مزاری، نعیمہ کشور اور ایم کیو ایم کے ایس اے اقبال قادری شامل ہیں. پارلیمانی لیڈرز کا مشاورتی اجلاس فوجی عدالتوں کے مسودہ سے ہنگامہ خیز اختلافات کی وجہ سے بے نتیجہ ثابت ہوا. روزنامہ خبریں کے مطابق ملک میں دہشتگردی کے مقدمات کو ہنگامی بنیادوں پر نمٹانے کے لئے فوجی عدالتوں کے اعدادوشمار کا دیگر عدالتوں سے موازنہ پیش کیا گیا، جبکہ فوجی عدالتوں کی بحالی اور باقاعدہ آئینی ترمیم کے ذریعے تیار کئے گئے قانونی مسودہ میں 19 قوانین میں ترامیم پیش کی گئیں.
ان ترامیم کو پیپلزپارٹی، پاکستان تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی شیر پاﺅ گروپ حکومتی ا تحادی پارٹی جے یو آئی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے بھی سخت مخالفت کی ہے. اجلاس کے اندر پہلے فوجی عدالتوں کو جمہوریت کے صریحاً منافی قرار دیتے ہوئے پارلیمانی لیڈرز نے شدید سیاسی و قومی تحفظات کا اظہار کیا. 19 قوانین میں ترامیم اور عسکری اداروں کی طرف سے دو سال کے بجائے 3 سال کی مدت رکھنے پر بھی بعض پارلیمانی لیڈرز سیخ پاہوگئے.
پیپلزپارٹی کے رہنما ممبر قومی اسمبلی سید نوید قمر نے اخبار کو بتایا کہ موجودہ حکومتی ڈرافٹ کو بالکل مسترد کرتے ہیں. حکومت نے فوجی عدالتوں کی بحالی اور دائرہ کار میں کام کرنے پر خود سنجیدہ نہیں ہے. حکومت ڈرافٹ میں ترمیم کرے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے. نوید قمر نے کہا حکومت نے مسودہ ایسے ہی پیش کیا ہے جیسے روڈمیپ تو دکھایا لیکن تشریح نہیں کی گئی کہ دائرہ کار کیا ہے. ہارڈکور دہشتگردوں کے کیسز فوجی عدالتوں میں بھیجنے کی تجویز سرے سے اس نئے بل سے نکال دی گئی ہے اب تو کسی بھی شخص کا مقدمہ الزام کی صورت میں فوجی عدالت میں بھیجا جاسکتا ہے.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top