یہ 1979 کی بات ہے، دہشت گردوں اور اسلام دشمنوں کے ایک گروپ نے خانہ کعبہ پر حملہ کر دیا

6

لاہور(قدرت روزنامہ16فروری2017)یہ 1979 کی بات ہے، پاکستان کے سابق آرمی چیف اور صدر پرویز مشرف تب پاک فوج میں میجر کے عہدے پرتعینات تھے. انہی دنوں میں دہشت گردوں اور اسلام دشمنوں کے ایک گروپ نے خانہ کعبہ پر حملہ کر دیا .

سعودی عرب کے اس وقت کے بادشاہ شاہ خالد نے پاکستانی حکومت سے رابطہ کیا اور مدد کی درخواست کی. جس پر پاکستان میں جنرل ضیاء الحق نے ایس ایس جی کمانڈوز کا ایک دستہ منتخب کیا اور میجر پرویز مشرف کو اس دستے کا سپہ سالار بنا کر سعودی عرب بھیج دیا.

پرویز مشرف نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ دستہ میں شامل ایس ایس جی کے جوانوں کو خانہ کعبہ کی خاطر جان دینے پر آمادہ کیا. اس کے بعد بہت تھوڑے سے وقت میں آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی.

00

اس پلاننگ کے تحت سب سے پہلے مسجد الحرام کے صحن میں پانی چھوڑ دیا گیا اور دستے کے کمانڈر پرویز مشرف نے سعودی بادشاہ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایس ایس جی کمانڈوز کو مسجد کے صحن میں اتارنے کی اجازت طلب کی. کچھ تامل کے بعد شاہ خالد نے اجازت دے دی. اور ایس ایس جی کے مشہور زمانہ کمانڈوز کو صحن کعبہ میں اتارا جانے لگا . ایک طرف تو یہ کاروائی ہو رہی تھی دوسری طرف پرویز مشرف کے حکم پر اسی وقت مسجد الحرام کے صن میں موجود پانی میں کرنٹ چھوڑ دیا گیا. اس موثر کاروائی کی وجہ سے دہشت گردوں کے شارپ شوٹرز غیر فعال اور مفلوج ہو گئے اور پاک فوج کے سنائپرز نے فضاء سے ہی ان دہشت گردوں کو نشانہ بنا لیا جب کہ کچھ کو گرفتار کر لیا گیا :-

001 002 003..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top