چین پاکستان کا مخلص دوست ہے ، جس کے تعاون سے اربوں ڈالر کے منصوبے لگائے جا رہے ہیں

 
اسلام آباد (قدرت روزنامہ15-فروری2017) چین پاکستان کا مخلص دوست ہے ، جس کے تعاون سے اربوں ڈالر کے منصوبے لگائے جا رہے ہیں، لیکن کیا ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے والی چینی کمپنیوں کے ساتھ کئے جانے جانے والے معاہدوں میں ہمارے مفادات کا پورا خیال رکھا جا رہا ہے؟ اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ معاہدے بڑی حد تک چینی کمپنیوں کے حق میں نظر آتے ہیں. رپورٹ کے مطابق کوئلے سے چلنے والے توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری پر 34.5 فیصد سالانہ منافع کی پیشکش کی گئی ہے اور قرضے چھ فیصد شرح سود پر حاصل کئے گئے ہیں، جن میں انشورنس کے اخراجات شامل نہیں ہیں.
سرکاری دستاویزات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انشورنس کی رقم شامل کرنے سے، جو کہ ایک چینی انشورنس کمپنی کو ادا کی جائے گی، قرضوں کے اخراجات 13 فیصد تک پہنچ جائیں گے. مزید یہ کہ حکومت چینی کمپنیوں کی آمدن پر پہلے ہی ٹیکس چھوٹ دے چکی ہے. وزارت پانی و بجلی کی جانب سے 8 توانائی منصوبوں کی فنانسنگ تفصیلات فراہم کی گئی ہیں جن کی گنجائش مجموعی طور پر 7880 میگاواٹ ہے، اور جنہیں 12.54 ارب ڈالر کی لاگت سے قائم کیا جارہا ہے. دستاویزات کے مطابق ان منصوبوں کے سپانسرز نے 9.5 ارب ڈالر کے قرضہ جات 4.5فیصد لندن انٹربینک آفر ریٹ بمع 4.5 فیصد پر حاصل کئے ہیں،جس کا مطلب 5.8 فیصد سے 6.2 فیصد شرح سود ہے. چائنہ ایکسپورٹ اینڈ کریڈٹ انشورنس کارپوریشن ان کمپنیوں کود ئیے گئے قرضہ جات پر 7فیصد انشورنس فیس بھی وصول کرے گی. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوئلے سے چلنے والے منصوبوں پر ریٹرن آن ایکوٹی 27.2 فیصد سے 34.49 فیصد تھی، جو کہ سٹینڈرڈ 17 فیصد سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے. پن بجلی کے منصوبوں پر انٹرنل ریٹ آف ریٹرن 17 فیصد تھا. وزارت پانی و بجلی کے ایڈیشنل سیکرٹری عمر رسول کے حوالے سے بتایا گیا کہ بلند ریٹرن آن ایکوٹی ان منصوبوں کو دلکش بنانے کیلئے دیا گیا، کیونکہ لوگ کوئلے سے چلنے والے منصوبوں میں سرمایہ کاری پر تیار نہیں تھے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top