لاہور دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنیوالی تنظیم نے ایک اور خطرناک ترین اعلان کردیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ14فروری2017)لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر خودکش حملے کرنیوالی تنظیم جماعت الاحرار نے ’آپریشن غازی‘ کے نام سے دہشتگردی کی نئی لہر شروع کرنے کااعلان کردیا اور اس کا باضابطہ اعلان ویڈیو میں کردیا،نئے آپریشن کا نام لال مسجد میں قتل ہونیوالے ’غازی عبدالرشید ‘ کی مناسبت سے رکھاگیاجبکہ آپریشن میں اسمبلیوں ، سیکیورٹی فورسز، عدلیہ ، وکلاء، مالی لین دین کے ادارے، بلاگرز، میڈیاہاﺅسز، امن لشکراور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیاگیا. انگریزی جریدے ’پاکستان ٹوڈے‘ کے مطابق ویڈیو پیغام میں جماعت الاحرار کے سربراہ نے دیگرمذہبی گروہوں سے بھی مل کر ایک پلیٹ فارم بنانے اپیل کی ہے جو غیرمعمولی لڑائی کیلئے تیارہو، جس کا اشارہ تحریک طالبان فضل اللہ گروپ میں دوبارہ شمولیت کی طرف ہوسکتاہے جبکہ ٹی ٹی پی اور وزیرستان کے محسود طالبان یعنی سجنا گروپ پہلے ہی 2فروری 2017ءکو شامل ہوچکاہے .

یہی گروہ چمن میں لشکر جھنگوی العالمی کیساتھ مل کر ایف سی کونشانہ بنائے جانے ،جبکہ کرم ایجنسی میں دھماکے کی ذمہ داری لشکر جھنگوی العالمی قبول کرچکی ہے اور دعویٰ کیاتھا کہ انہوں نے یہ کارروائی محسود طالبان کے شہریار گروپ کیساتھ مل کر کی تھی ، یعنی یہ گروہ پہلے ہی ایک دوسرے کے ساتھ الحا ق کرچکے ہیں. جماعت الاحرار نے دعویٰ کہ صورت الراد نامی آپریشن میں نشانہ بنانے اور پھر بھاگ جانے کی حکمت عملی تھی جس کے آپریشن میں مقاصد حاصل ہوئے اور مزید بڑے پیمانے پر کارروائیوںکی ضرورت ہے جبکہ جماعت الاحرار پہلے ہی پاک افغان بارڈر ایریا میں بزئی کے علاقے میں تین پاکستانی فوجی چیک پوسٹوں پر حملے کرکے اپنی کارروائیوں کا آغاز کرچکی ہے جس دوران ان کے تین دوجنگجو ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے . اخبار نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے اب محمد ایجنسی، باجوڑ ایجنسی اور پشاور میں بڑے پیمانے پر حملوں کی توقع رکھتے ہیں جبکہ اقلیتوں کو نشانہ بنایاجاسکتاہے . ممکنہ اہداف میں قانون سازی کرنیوالے تمام ادارے ، سیکیورٹی فورسز، عدلیہ ، وکلاء، سود کا کاروبار کرنیوالے ادارے یعنی بینکس، سیکولر سیاسی جماعتیں ، فحاشی پھیلانے میں ملوث تنظیمیں ، خواتین کے حقوق اور آگاہی مہمیں چلانے والی غیرسرکاری تنظیمیں، لبرل لکھاری ، سیاستدان یا سیاسی کارکنان، جماعت الاحرار کے دشمنوں کو فائدہ پہنچانے والے میڈیا پرسنزیا میڈیا ہاﺅسز، امن لشکراور امن کمیٹیاں، مخلوط نظام تعلیم یا حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کی تعلیم دینے والے ادارے شامل ہیں تاہم تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مارکیٹ، ہسپتال یا مسجد جسیے ہجوم والے مقامات کو نشانہ نہیں بنائیں گے . یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ماضی میں یہ مقامات نشانہ بنائے جاتے رہے ہیں...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top