پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا ایف بی آر کی جانب سے 4 ارب روپے کے اضافی ری فنڈز پر برہمی کا اظہا ر

اسلام آ باد ( آ ئی این پی ) قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف بی آر کی جانب سے 4 ارب روپے کے اضافی ری فنڈز پر برہمی کا اظہا رکیا،چیئرمین ایف بی آر نثار محمد خان نے کمیٹی کو آگاہ کیاکہ ایف بی آ ر کے سسٹم میں بہتری آ نے سے سیلز ٹیکس ان پٹ کے ریفنڈ کے رواں سال 120 ارب روپے کے کم کلیم آئے ہیں،جن افسران نے کارکردگی نہیں دکھائی انکے خلاف انکوائری کر رہے ہیں،ایف بی آر کے آئی ٹی سسٹم میں بہتری کے لئے 500ملین کا منصوبہ منظو ر کیا گیا ہے، ایف بی آر کے ٹیکس فائلرز کی تعداد میں کمی آ نے کا تا ثر درست نہیں، ہم نے ایسا الیکٹرانک نظام شروع کردیا ہے جس سے غلط ایڈجسٹمنٹ نہیں کرائی جاسکے گی،پی اے سی نے ایف بی آر سے تمام سرکاری محکموں کے ذمہ واجبات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ہدایت کہ کہ ریکوریوں کے حوالے سے عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی پیروی کے لئے ماہر وکلاء کی خدمات حاصل کی جائیں . بدھ کو سید خورشید شاہ کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا.

اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی آڈٹ رپورٹ 14.2013 کیا گیا. آڈٹ حکام نے کمیٹی کوآگاہ کیا کہ ایف بی آر کے 11 فیلڈ دفاتر میں 105 ٹیکس گزاروں کو اضافی ری فنڈز دیئے گئے.کراچی اور لاہور میں 4 ارب روپے کے اضافی ری فنڈز پر پی اے سی نے تشویش کا اظہار کیا. اجلاس میں سی این جی اسٹیشنز سے چار ارب سولہ کروڑ سیلز ٹیکس ان پٹ کی ریکوری کا معاملہ بھی زیر غور لایا گیا.پی اے سی اراکین نے ایف بی آر پر اظہار برہمی کیا. پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کے چیئرمین خورشید شاہ نے کہا کہ آڈٹ کو اتنی بڑی رقم نظر آ گئی ایف بی آر کو کیوں نہیں نظر آئی.ایف بی آر کے کورٹ کیسز کمزور ہیں جسکے باعث ریکوری نہیں ہو رہی. چیئرمین ایف بی آر نثار محمد خان نے کمیٹی کو آگاہ کیاکہ سیلز ٹیکس ان پٹ میں رواں سال 120 ارب روپے کے کم کلیم آئے ہیں.سسٹم کو بہتر کرنے سے کلیم میں کمی آئی.جن افسران نے کارکردگی نہیں دکھائی انکے خلاف انکوائری کر رہے ہیں .ایف بی آر کے آئی ٹی سسٹم میں بہتری کے لئے 500ملین کا منصوبہ منظو ر کیا گیا ہے .ایف بی آر کے ٹیکس فائلرز کی تعداد میں کمی آ نے کا تا ثر درست نہیں. چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ بغیر آڈٹ خود تشخیصی نظام ختم کررہے ہیں ، آڈٹ کانظام رائج کردیا گیا ہے، الیکٹرانک سسٹم کے ذریعے غلط ایڈجسٹمنٹ کو روکنے کے لئے موثر اقدامت کرلئے گئے ہیں جبکہ پی اے سی نے ایف بی آر سے تمام سرکاری محکموں کے ذمہ واجبات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ہدایت کہ کہ ریکوریوں کے حوالے سے عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی پیروی کے لئے ماہر وکلاء کی خدمات حاصل کی جائیں. آڈٹ حکام کے طرف سے بتایاگیاکہ سیلز ٹیکس کے قواعد کے تحت گیس کی اصل قدر میں 25فیصد سیلز ٹیکس ، سی این جی اسٹیشنوں سے وصول نہیں کیاگیا. اس پرچیئرمین ایف بی آر نثار خان نے کہاکہ اس حوالے سے کیس عدالت میں زیر سماعت ہے. سردار عاشق حسین گوپانگ نے کہاکہ 4ارب روپے کا آڈٹ اعتراض جن کی غلطی کی وجہ سے بناہے اس کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی گئی ، ایف بی آر کو یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہیے. چیئر مین ایف بی آر نے کہاکہ ایف بی آر نے ایک بڑے کیس کو ری اوپن کرایا ، جہاں کاروائی کرنا ہوتی ہے وہاں ہم ضرورکرتے ہیں. انہوں نے کہاکہ یہاں آڈٹ کے بغیر خود تشخیصی نظام رائج تھا ابھی دوبارہ آڈٹ کا نظام شروع کیاہے. ہم نے ایسا الیکٹرانک نظام شروع کردیا ہے جس سے غلط ایڈجسٹمنٹ نہیں کرائی جاسکے گی. پی اے سی نے ہدایت کی کہ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ اور منسٹری ٹو منسٹری واجبات کی کلیئرنس کے لئے کوئی نظام رائج ہونا چاہیے. پرویز ملک نے کہاکہ عدالتیں کیس میں موجود خامیوں کی وجہ سے حکم امتناعی جاری کرتی ہے. ایف بی آر کو قوانین میں موجود خامیوں کو دور کرنا چاہیے.چیئرمین پی اے سی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ کس محکمہ سے انہوں نے کتنی ریکوری کرنی ہے اس کی تفصیلات پی اے سی کو فراہم کی جائیں. محمود خان اچکزئی نے کہاکہ پانچ ارب روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top