ملکی ترقی کا راستہ روکنے والوں کو جواب دینا پڑے گا، وزیراعظم نوازشریف

چکوال/راولپنڈی (آن لائن)وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی کا راستہ روکنے والوں کو جواب دینا پڑے گا، وہ جتنا روکتے رہیں ہم اتنا ملک کی خوشحالی کے لیے کام کرتے جائیں گے، نیا پاکستان بنانے کے دعویدار کچھ نہیں کررہے ہیں، سارے تعمیراتی کام تو ہم کررہے ہیں، اگر تبدیلی کے دعویدار چاہتے ہیں تو ہم ترقیاتی کاموں کی تختیوں پران کے نام لکھ دینگے ، سابقہ ادوار میں سولہ سولہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی ، آج یہ ناسور نہ ہونے کے برابر ہے ،پاکستان میں تمام لوگ بلا تفریق و رنگ و نسل برابر کے شہری ہیں ، ہمارے اور اقلیتوں کے دکھ سانجھے ہیں ، مذہب سب کا اپنا اپنا لیکن انسانیت سب کی مشترکہ میراث ہے،کراچی میں پہلے قتل عام ہوتا تھا اورتباہی مچی ہوئی تھی،ہماری کوششوں کے باعث آج دوبارہ روشنیوں کا شہر بن رہا ہے .کٹاس راج میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ کٹاس راج کے باسیوں کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں ، اس پر صدیق الفاروق کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے دعوت دے کر یہاں آنے کی میری دیرینہ خواہش پوری کردی.
انہوں نے کہاکہ کٹاس راس کی تاریخ درخشاں ہے اور تقریباً چار ہزار سال پرانی تاریخ کا حامل علاقہ ہے ، یہ چار تہذیبوں کا سنگھم ہے اور یہی مقام ہے جہاں البیرونی نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ،میرے لئے خوشی کا موقع ہے کہ پانچ مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے مجمعہ سے خطاب کررہا ہوں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں تمام لوگ بلا تفریق و رنگ و نسل برابر کے شہری ہیں ، ہمارے اور اقلیتوں کے دکھ سانجھے ہیں ، مذہب سب کا اپنا اپنا لیکن انسانیت سب کی مشترکہ میراث ہے .انہوں نے کہاکہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے ملکی ترقی اور اس کے دفاع کیلئے اپنے ہاتھوں میں ہاتھوں میں ڈال کر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ، اقلیتیوں کی خدمت کے لئے صدیق الفاروق کی خدمات قابل تحسین ہیں اور آثار قدیمہ کے لئے جو تاریخی کام ہورہا ہے اس کے تحت گندھارا اور بابا گرونانک یونیورسٹیاں بنانے میں صدیق الفاروق کے ساتھ بھرپور تعاون کروں گا . انہوں نے کہاکہ وہ دن دور نہیں کہ ان اقدامات کے باعث پاکستان اقوام عالم میں اقلیت دوست ملک کے نام سے جانا جائے گا کیونکہ تمام مذہب کے تاریخی ورثہ کو محفوظ بنانے اور ان کو تحفظ دینے کے لئے ہمارے اقدامات سب کے سامنے ہیں ، مسلمانوں کو مکہ میں اقلیت ہونے کے باعث جبر کا سامنا کرنا پڑا لیکن مدینہ میں اکثریت بنے اور اقتدار ہاتھ آیا تو اقلیتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا.انہوں نے کہاکہ حضرت محمدؐ نے یثرب کے قبائل اور یہودیوں کیساتھ معاہدے کئے اور ان کی بنیادی ضروریات کو تحفظ دیا ، مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا ایمان ہے کہ اکثریت ہو یا اقلیت سب کے ساتھ برابر کا سلوک روا رکھنا ہے کیونکہ قرآن پاک ہمیں اسی کا درس دیتا ہے .انہوں نے کہاکہ میں ذاتی طورپر اقلیتوں کی خوشیوں میں شریک ہوتا ہوں اور ان کے ساتھ کسی قسم کے ناجائز یا امتیازی سلوک روا رکھنے کو مناسب نہیں سمجھتا ، میں سمجھتا ہوں کہ اقلیتوں کے ساتھ کسی کو بھی امتیاز سلوک کا درس نہیں دینا چاہیے کیو نکہ انسان کا دل توڑنے سے انسان واپس نہیں آتا ، آسمانی کتابوں سے رہنمائی حاصل کرکے ہی ہم سیدھی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں اور یہ ساری اچھی باتیں آسمانی کتابوں میں لکھی گئی ہیں ، ہمیں اسی کے مطابق عمل کرنا چاہیے .انہوں نے کہاکہ ملکی حالات کا مشاہدہ کریں تو پہلے بارہ بارہ اور سولہ سولہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی اور آج یہ ناسور نہ ہونے کے برابر ہے وہ الگ بات ہے کہ میڈیا والے رات کو پندرہ منٹ کی لوڈ شیڈنگ بھی کہیں سے نکال کر پگڑیاں اچھالنا شروع کردینگے لیکن ان رپورٹوں پر توجہ نہیں دینی چاہیے بلکہ حقیقت کو قبول کرنا چاہیے .انہوں نے کہاکہ جو لوگ ہماری راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں اور ہمیں ترقی کے سفر سے روکنا چاہتے ہیں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم لوگوں کی خدمت کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے اور عوامی خدمت سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا .وزیراعظم نے کہا کہ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ یہاں کیڈٹ کالج میں بلوچستان اور فاٹا سمیت ملک بھر کے علاقوں سے طلباء تعلیم حاصل کررہے ہیں ، ہم اس طرح کے ادارے بنانا چاہتے ہیں جہاں سب کو انصاف کے مطابق کام کرنے کا موقع ملے .انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں سڑکوں کے جال بچھ رہے ہیں ، چند مہینوں میں کراچی حیدر آباد کی چھ رویہ موٹروے تعمیر ہورہی ہے ، کے پی کے کا موٹروے بھی ہم بنا رہے ہیں جوحسن ابدال سے حویلیاں تک چھ رویہ ہو گی.انہوں نے کہاکہ جو لوگ نئے پاکستان بنانے کے دعوے کرتے ہیں وہ لوگ کچھ نہیں بنا رہے بلکہ یہ ہم ہی ہیں جو تعمیری کام کررہے ہیں البتہ اگر وہ چاہتے ہیں تو ان ترقیاتی کاموں کی تختیوں پران کے نام لکھ دینگے ، ہم ان کے ساتھ اتنی مہربانی کرسکتے ہیں.انہوں نے کہاکہ آپ دیکھیں کراچی سے لاہور تک چھ رویہ موٹروے بن رہی ہے جبکہ گوادر اور کوئٹہ کے درمیان سڑک تعمیر ہو چکی ہے جس سے فاصلے کم ہو گئے ہیں ، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ادارے بنا رہے ہیں .وزیراعظم نے کہاکہ آپ مسائل کو سامنے رکھیں ، پہلے کتنے مسائل تھے ، دہشت گردی کا مسئلہ سب سے بڑا تھا اور آج حالات آپ کے سامنے ہیں ، ہمارے اقدامات کے باعث اس میں خاطر خواہ کمی آئی ہے جس پر ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے .وزیراعظم نے کہاکہ معیشت کی حالت بھی بہتر ہورہی ہے ، معاشی ترقی کے اشارے مل رہے ہیں ، اخبارات میں آرٹیکل چھپ رہے ہیں سب کو پتہ ہے کہ گزشتہ سال شرح نمو 4.7فیصد تھی اور امید ہے کہ یہ 5.5فیصد تک پہنچ جائے گی اور آئندہ چند برسوں میں سات فیصد تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں .انہوں نے کہاکہ آپ کراچی کے حالات دیکھیں پہلے قتل عام ہوتا تھا ، بھتہ خوری تھی ، لوگ لٹ جاتے تھے ، تباہی مچی ہوئی تھی ، لوگ گھروں سے نہیں نکل سکتے تھے لیکن ہماری کوششوں کے باعث آج کراچی دوبارہ روشنیوں کا شہر بن رہا ہے ، شہر کی روشنیاں بحال ہورہی ہیں .وزیراعظم نے کہاکہ ہم پاکستان میں صحت کے شعبے میں بھی کافی اقدامات اٹھا رہے ہیں جس کے تحت ملک بھر میں پچاس جدید ہسپتال بنائے جارہے ہیں ، صحت کے شعبے کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے بھی بن رہے ہیں ، تعلیمی ادارے بنا کر سفری سہولیات اور تعلیمی نظام کی بہتری اور موثرسسٹم کو فروغ دینے کے لئے ہمارا کردار ہمارے اقدامات سے واضح ہے .وزیراعظم نے کہاکہ آج صبح ہی اسلام آباد میں بچوں کو سکول بسوں کی چابی دے کر ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے،مجھے خوشی ہوئی کہ ان پھول جیسے بچوں اور قوم کے معماروں کی خدمت کرنے کا موقع ملا اور ہم اس کو پورا کر نے کی کوشش کررہے ہیں.نوازشریف نے صدیق الفاروق کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ آثار قدیمہ کی بہتری کیلئے جو کام کررہے ہیں اس پر توجہ دس گنا اور بڑھا دیں اور مذہبی عبادت گاہوں کی تعمیر جلد سے جلد مکمل کریں.وزیراعظم نے کہاکہ ہمیں اپنے اخلاق بہتر بنانے چاہیں ، دنیا فانی ہے اور ہم سب کو آخرت کی فکر کرنی چاہیے ، ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کریں بلکہ بردباری اور برداشت سے کام لے کر جھوٹ بولنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے رجوع کریں تاکہ ہمارے مسائل حل ہوں اور زندگی میں برکت آئے ، دوسروں پرالزام لگانے اور نصحیتیں کرنے سے بہتر ہے کہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور خود سے رجوع کریں کیونکہ اس طرح ہی ہماری اصلاح ہوسکتی ہے ، آخر میں انہوں نے پاکستان زندہ باد اور تمام برادری پائندہ باد کے نعرے لگائے جس کے بعد فوٹو سیشن ہوا .قبل ازیں وزیراعظم کٹاس راج میں ہندوؤں کے مذہبی مقام پر پاور پلانٹ کا افتتاح کیا جس سے وہاں کے مکین مستفید ہوں گے .وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ بچے مستقبل کے معمار ہیں ، ان کو تعلیمی وسفری سہولیات فراہم کرنے کیلئے تمام کوششیں بروئے کار لا رہے ہیں،سکولوں کی عمارتیں بہتر اور تعلیمی نظام معیاری ہونا چاہیے، میرٹ کا خاص خیال رکھا جائے،پاکستان کو تعلیم سمیت ہر لحاظ سے مضبوط بنائیں گے، پاکستان میں رہتے ہوئے یا باہر جاتے ہوئے پاکستانی اپنے ملک پر فخر محسوس کرینگے ،اسلام آباد سے گندگی کے ڈھیر ختم ہونے چاہیں، اسلام آباد کو تعلیمی لحاظ سے ماڈل شہر بنائیں گے .بدھ کو سکولوں کو بسیں دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ بچے من کے سچے ہوتے ہیں اور یہاں ہم سب من کے سچے بیٹھے ہیں ، یہ معصوم بچے نوازشریف کی جان ہیں ، مجھے ان پر فخر ہے اور دعا ہے کہ اللہ ان سب سے آگے چل کر ملک کی خدمت کرنے کام لے ،انہوں نے کہا کہ آپ پاکستان کا مستقبل ہو اور آپ مستقبل کے معمار ہیں ، انشاء اللہ اب پاکستان کو مضبوط بنائیں گے ، ہم جو کچھ کررہے ہیں آپ اس سے سو گنا زیادہ کریں گے ، اس لئے ہم سکول تعمیر کررہے ہیں اور تمام سہولیات فراہم کرنے کے لئے اپنی کوششیں بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ آپ اچھی تعلیم حاصل کرسکیں اور آپ کی سہولت کے لئے بسیں دی جارہی ہیں تاکہ آپ سکول میں داخل ہوں تو آپ کو مزہ آئے ، ان بسوں میں آپ سکول جائیں یا سکول سے واپس آئیں تو آپ اس سفر سے مزہ لیں اور سکول سے فارغ التحصیل ہو کر آپ کرسی پر کام کر نے بیٹھیں تو آپ کو اس کا بھی مزہ آنا چاہیے ، پاکستان میں رہتے ہوئے یا باہر جاتے ہوئے آپ پاکستان پر فخر محسوس کرینگے ، آج والدین خوش ہیں کہ ان کے بچے ان بسوں میں بیٹھ کر سکول جائیں گے وہ عام ویگنوں میں آپ کو سکول نہیں بھیجنا چاہتے ،وزیراعظم نے کہاکہ میں نے مریم نواز کو کہا تھا کہ سکولوں کی عمارتیں بہتر اور تعلیمی نظام معیاری ہونا چاہیے .انہوں نے کہا کہ طارق فضل چوہدری کو کہتا ہوں کہ میرٹ پر کام ہونا چاہیے ، سکول میں بچوں کے داخلے سے لے کر اساتذہ کی تقرری تک تمام کام میرٹ پر ہونا چاہیے.انہوں نے کہا کہ 422سکولوں کے لئے 422بسیں ہونی چاہیے ،ان بسوں کی پہلی کھیپ پہنچ چکی ہے اور 130بسیں مزید بھی فراہم کی جائیں گی اور بچیوں کے سکولوں میں یہ بسیں سب سے پہلے دینی چاہیے تاکہ وہ مسائل کا شکار نہ ہوں. اسلام آباد تعلیمی لحاظ سے ملک کے لئے ماڈل شہر ہونا چاہیے ، انہوں نے کہاکہ میں نے اسلام آباد کے نظام کو بھی ہدایت کی ہے کہ اسلام آباد سے گندگی کے ڈھیر ختم ہونے چاہیں ، سڑکیں صاف ستھری ہونی چاہیے تاکہ آنے والے وقت میں اسلام آباد دنیا بھر کا خوبصورت اور بہترین شہر بن سکے.انہوں نے کہاکہ مریم نواز بچوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں اور مجھے خصوصی بچوں کی کارکردگی پر دلی مسرت ہوئی ، یہ تمام بچے بچیاں میرے دل کی دھڑکن ہیں اور آپ کے بہتر مستقبل کے لئے ہم جتنا کرسکے اتنا کریں گے ،ہمارے وزیر ، مشیر آپ کے سکولوں میں آئیں گے اور دیکھیں گے کہ بچوں کے سکول اور تعلیمی نظام میں کس قدر بہتری آئی ہے ، نظام ٹھیک ہو جائے تو ہم خود آپ کے سکولوں میں آئیں گے .ان نو نہالوں کو اللہ خوشیاں نصیب فرمائے اور ساتھ میں اللہ ان کے والدین کو بھی خوش رکھے .آخر میں نوازشریف نے بچوں کیساتھ یک آواز ہو کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور وزیراعظم نے بس کی چابی بچوں کے حوالے کی ، اس موقع پر غبار بھی ہوا میں چھوڑے گئے ، وزیراعظم نے بچوں کیساتھ ملکر بس کی شکل کا کیک بھی کاٹا اور بس کا معائنہ بھی کیا جس میں مریم اورنگزیب ، طارق فضل چوہدری اور بچے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top