وفاقی تعلیمی اداروں میں بین الاقوامی منشیات کے استعمال اور فروخت نے حکومت و قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کھلبلی مچا دی ہے

اسلام آباد(قدرت روزنامہ12فروری2017) وفاقی تعلیمی اداروں میں بین الاقوامی منشیات کے استعمال اور فروخت نے حکومت و قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کھلبلی مچا دی ہے. وزارت داخلہ کے احکامات پر منشیات فروشی کے خلاف تعلیمی اداروں میں جاری آپریشن کے تحت 51افراد گرفتار ہوئے مگر وفاقی پولیس کسی بڑے ڈرگ مافیا کا نام نہ اگلوا سکی.

گرفتار طالبعلم نے بین الاقوامی منشیات ایکسٹیسی کے استعمال و فروخت کا انکشاف کر دیا، تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے تعلیمی اداروں میں منشیات کی فروخت اور استعمال کا خاتمہ کرنے کیلئے جاری وفاقی پولیس کی زیر نگرانی آپریشن کلین اپ کے تحت51ملزمان کی گرفتاری کے باوجود پولیس کسی بڑے مگر مچھ پر ہاتھ نہ ڈال سکی دوران تفتیش وفاقی پولیس گرفتار کسی بھی ملزم سے بڑے ڈرگ مافیا کا نام اگلوانے میں ناکام رہی، اقراء یونیورسٹی کے گرفتار طالبعلم ولید شمیم نے تعلیمی اداروں میں بین الاقوامی منشیات کے فروخت اور استعمال کا انکشاف کیا، طالبعلم نے پولیس کو بتایا کہ ہالینڈ کے نجی دورے کے دوران اس نے وہاں سے 350گولیاں خریدی جن کو اقراء یونیورسٹی میں فروخت کیا جانا مقصود تھا، طالبعلم نے مزید بتایا کہ وفاقی تعلیمی اداروں میں بین الاقوامی منشیات کا استعمال عروج پر ہے. پولیس کے مطابق اقرا یونیورسٹی کا گرفتار طالبعلم ولید شمیم ذاتی حیثیت میں ہالینڈ گیا جہاں سے اس نے یہ گولیاں خریدیں. آپریشن کے باعث اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے گولیاں اپنے قبضے میں لے لی گئیں. 51ملزمان گرفتار کئے گئے جن میں مختلف یونیورسٹیزسے تعلق رکھنے والے10طلباء بھی گرفتار. گرفتار ملزمان کے قبضے سے اب تک 40973شراب کی بوتلیں، 300لیٹر کھلی شراب،1415گرام حشیش امپورٹڈ، 415گرام ہیروئن، 350گولیاں قبضہ میں لی گئیں. گرفتار51ملزمان کے خلاف تھانہ شالیمار میں8،کراچی کمپنی میں18، پولیس تھانہ رمنا میں14، تھانہ مارگلہ میں3مقدمات درج ہیں، معلومات کے مطابق گرفتار تمام ملزمان پولیس کی جانب سے کمزور چالان عدالت میں پیش کرنے کے باعث ضمانتوں پر رہا ہو چکے ہیں یا بھر جوڈیشنل ریمانڈ پر جیلوں میں ہیں، ایس ایس پی کیپٹن (ر) ذیشان حیدر نے بتایا ہے کہ پولیس عدالتی اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتی جبکہ طالبعلموں، خواتین اور بچوں پر بنائے گئے مقدمات میں عدالتیں جسمانی ریمانڈ کی بجائے جوڈیشنل ریمانڈ پر ترجیح دیتی ہے، جس کی وجہ سے تفتیش میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top