سی پیک میں شراکت اور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں ،ایران , شمولیت سے سی پیک کو تقویت ملے گی اورخطے میں خوشحالی آئے گی : شہباز شریف

لاہور(قدرت روزنامہ11فروری2017)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ایران کے قونصلیٹ کی جانب سے مقامی ہوٹل میں انقلاب اسلامی ایران کی 38ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی.وزیر اعلی محمد شہبازشریف اور ایرانی قونصل جنرل محمد حسین بنی اسدی نے انقلاب ایران کی سالگرہ کا ملکر کیک کاٹا.

وزیر اعلی شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کے دوران انقلاب اسلامی ایران کی 38 ویں سالگرہ پر ایرانی قیادت، ایرانی قونصل جنرل اور ایرانی عوام کو مبارکباددیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں انقلاب ایران کا منفرد مقام ہے اورانقلاب ایران نے عوام کی توقعات کے برعکس فرسودہ نظام کو تہہ و بالا کر دیا تھا اورپوری ایرانی قوم امام خمینی ؒ کی عظیم قیادت میں اکٹھی ہوئی اورفرسودہ نظام کو روند ڈالا.انقلاب ایران سے ایسا نظام کھڑا کیا گیا جس کی حدت، جدت اور جرات پوری دنیا کیلئے ایک مثال بن چکی ہے .تمام ترپابندیوں کے باوجود کوئی ایرانی قوم کو ترقی و خوشحالی سے نہیں روک سکا.اغیار نے ایران پر ظلم و زیادتی کے پہاڑ ڈھائے لیکن ایرانی قوم عزم کے ساتھ ڈٹی رہی اور ایک ممتاز حیثیت اور شناخت برقرار رکھی. ایرانی قوم نے علامہ اقبال ؒ کے پیغام خودی کو اپنی عملی زندگیوں میں رائج کیا ہے اوراسی کی بدولت آج ایرانی قوم ایک عظیم قوم بن چکی ہے . انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں . پاکستان اور ایران دوستی کو آگے بڑھائیں گے تو خطے میں ترقی و خوشحالی کے نئے مینار قائم ہوں گے . دونوں ممالک باہمی تجارت اور باہمی سرمایہ کاری کو فروغ دے کر مشترکہ فوائد سے مستفید ہو سکتے ہیں . ہمیں ایک دوسرے کے تجربے اور مہارت سے فائدہ اٹھا کر باہمی ترقی و خوشحالی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے .کاسا بلانکا سے کوالالمپور تک مسلم ممالک مادی وسائل ہونے کے باوجود ایک محکوم خطے کا منظر پیش کرتے ہیں . انہو ں نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے پاکستان ایٹمی طاقت ہے .ایٹمی طاقت ہونے کے باعث دشمن آج پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا .دشمن جانتا ہے کہ اگر اس نے میلی آنکھ سے دیکھا تو پاکستان آنکھیں نکال کر پاؤں تلے روند دے گا.تعلیم ، صحت اور دیگر شعبوں میں بھی ہم نے ’’نیوکلیئر طاقت ‘‘بننا ہے . پاکستان ایک طر ف ا یٹمی طاقت ہے اور دوسری طرف اس کے ہاتھ میں کشکول ہے .آگ اور پانی کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتے .اگر ہم نے زندہ قوم کی طرح زندگی بسر کرنی ہے تو کشکول توڑنا ہو گا.لیکن یہ کشکول تقریروں سے نہیں ٹوٹے گا بلکہ محنت ، امانت اور دیانت کے اصولو ں کو اپنانا ہو گا . انہوں نے کہا کہ ایران کی ترقی و خوشحالی کا سفر ہمارے لئے مشعل راہ ہے . ہم نے مل کر محبتوں اور دوستی کے اس سفر کو مزید پختہ کرنا ہے .ہمیں ان طاقتوں سے چوکنا رہنا ہے جو نہیں چاہتیں کہ پاکستان اور ایران آگے بڑھیں اور خطے میں امن قائم ہو .آج ہمیں اس بات کا عہد کرنا ہے کہ پاکستان اور ایران کی دوستی میں رکاوٹوں کو حائل نہیں ہونے دیں گے . سی پیک چین پاکستان اور ایران کے درمیان ایک موثر تعلق کی بنیاد بن سکتا ہے . چین پاکستان میں 51 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے .سی پیک کے تحت پاکستان بھر میں منصوبوں پر دن رات کام جاری ہے . ایران کی شمولیت سے سی پیک کو تقویت ملے گی اور خطے میں خوشحالی آئے گی .چین ،پاکستان اور ایران مل کر سی پیک کے حوالے سے خطے میں ترقی و خوشحالی کی نئی تاریخ لکھ سکتے ہیں . ایرانی قونصل جنرل محمد حسین بنی اسدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات یگانگت ، صلح اور امن پر مبنی ہیں . پاکستان میں آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے اور اس آپریشن سے دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے . سی پیک سے پاکستان میں اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا. سی پیک خطے کے دوسرے ممالک میں بھی اقتصادی سرگرمیاں بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا.ہم سی پیک کی حمایت کرتے ہیں اس لئے ہم سی پیک میں شراکت اور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں .انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے بدخواہ ایک ہیں . انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی شہباز شریف کی کاوشوں سے پنجاب میں اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے . وزیر اعلی شہباز شریف ایرانی طالب علموں کو پنجاب میں علم کی دولت مہیا کر رہے ہیں اور یہ طالبعلم پاک ایران دوستی کو آگے بڑھانے میں پل کا کردار ادا کریں گے . وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا،3 گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں صوبے کے عوام کو علاج معالجے کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کے اصلاحاتی پروگرام کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا.اجلاس میں صوبے کے 9 ڈویژنوں میں موٹربائیکس ایمبولینس سروس شروع کرنے،وزیراعظم قومی ہیلتھ انشورنس پروگرام کا دائرہ کار پنجاب کے تمام اضلاع تک بڑھانے اور اضافی ڈیوٹی کرنے والے ریسکیو1122 کے عملے کو اضافی الاؤنس دینے کی منظوری دی گئی.وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے ہسپتالوں میں مریضوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولتوں کی فراہمی تک چین سے نہیں بیٹھوں گا.ہیلتھ کیئر سسٹم کو خوب سے خوب تر بنانے کیلئے اہداف مقرر کرکے ان کے حصول کو ہر صورت یقینی بنانا ہوگا.صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کیلئے پہلے بھی وسائل فراہم کئے ہیں، آئندہ بھی دیں گے.دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے اب باتیں نہیں صرف کام ، کام اور کام کرکے دکھانا ہوگا.انہوں نے کہا کہپنجاب حکومت نے ہسپتالوں کی ایمبولینس سروس کا انتظام محکمہ صحت سے لے کر ریسکیو 1122 کے حوالے کر دیا ہے اورپنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جہاں پہلی بار ایمبولینس سروس کو مربوط نظام کے تحت چلایا جائے گا. انہوں نے کہا کہ ایمبولینس سروس کے نئے نظام سے مریضوں کو بروقت ہسپتال پہنچانے کے حوالے سے بے پناہ بہتری آئے گی.پنجاب میں ہسپتالوں میں ایمبولینس سروس کا نظام اب ریسکیو 1122 چلائے گا.وزیراعلیٰ نے موٹربائیکس ایمبولینس سروس کا دائرہ کار صوبے کے 9ڈویژنوں تک بڑھانے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ یہ سروس بیک وقت9 ڈویژنوں میں شروع کیا جائے گی اور اس سروس سے تنگ گلیوں اور محلوں میں مریضوں تک رسائی ممکن ہوگی ،سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈمیڈیکل ایجوکیشن نے تفصیلی بریفنگ دی.ڈی جی ریسکیو 1122 نے ایمبولینس سروس کے نئے نظام اور موٹربائیکس ایمبولینس سروس پرہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا.صوبائی وزراء خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، عائشہ غوث پاشا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز، طبی ماہرین اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی. شہباز شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں ملک سے دہشت گردی، انتہاپسندی اور توانائی بحران کے خاتمے کیلئے اجتماعی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں. سیاسی و عسکری قیادت تین برس قبل دہشت گردی و انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے ایک صفحہ پر آئی اور اجتماعی اقدامات سے اس ناسور کو بہت حد تک نکیل ڈال دی گئی ہے.وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار مقامی ہوٹل میں ینگ پریذیڈنس آرگنائزیشن (YPO) کے زیراہتمام ’’کلرز آف انڈس 2017‘‘ (Colours Of Indus 2017) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا. صوبائی وزراء ملک ندیم کامران، عائشہ غوث پاشا، شیخ علاؤالدین، بزنس ٹائیکون، سرمایہ کاروں اور غیرملکی مندوبین نے تقریب میں شرکت کی. وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج اور سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال کامیابی حاصل کی ہے. انہو ں نے کہا کہ نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کی منصوبہ بندی 80 اور 90 کی دہائی میں شروع ہو چکی تھی اور اس منصوبے پر کام کا آغاز 2002 میں ہوا اور 15 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ آج تک نامکمل ہے. شہبازشریف کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ترکی کے ٹرانسپورٹ اورٹریفک مینجمنٹ کے ماہرین نے شرکت کی. اجلاس میں ترکی اورپنجاب حکومت میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے حوالے سے تعاون پر اتفاق کیا گیا. وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موثر ٹریفک مینجمنٹ اورٹریفک ری انجینئرنگ کے ذریعے ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کیلئے ترکی کے تعاون کا خیر مقدم کرتے ہیں.ترکی اورپنجاب حکومت کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے دریچے کھل رہے ہیں .صوبائی وزیر جہانگیر خانزادہ،مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنماء خواجہ احمد حسان،ایڈیشنل چیف سیکرٹری،سیکرٹری داخلہ ،سیکرٹری ٹرانسپورٹ،کمشنر لاہورڈویژن اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی. وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے آذر بائیجان کے سفیر علی علیزادہ نے ملاقات کی ،جس میں باہمی دلچسپی کے امور،دوطرفہ تعلقات کے فروغ اورمختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیراعلیٰ شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان اچھے دوستانہ تعلقات موجود ہیں .

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top