شریف برادران کی گردن کا سریا نکالنے کے لیے اہم ترین گواہ نے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پیش کر دیں

اسلام آباد (قدرت روزنامہ08فروری2017) پاکستان مسلم لیگ (ق )کے ایم این اے طارق بشیر چیمہ کا کہنا ہے کہ ہمیں پتہ لگانا ہوگا کہ کیا ہم کرپٹ لیڈر کی پیروی کر رہے ہیں؟ اڈیالہ جیل میں ایک ایسا قیدی بھی سزا کاٹ رہا ہے جسکا نواز شریف اور انکی جانب سے کی جانے والی منی لانڈرنگ کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے اور جو منی لانڈرنگ کیسز اور پاناما کیس میں بھی سپریم کورٹ میں بطور گواہ پیش ہونا چاہتا ہے.

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اظہارِخیال کرتے ہوئے طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ بہالپور تحصیل یژوان کا آدمی اڈیالہ جیل میں کیوں قید کاٹ رہا ہے؟ انکا کہنا تھا کہ کہ جب منی لانڈرنگ عروج پر تھی اور یہاں سے پیسے بیرون ملک ( وہاں پر کھولے گئے آٹھ دس اکاؤنٹس میں) بھیجے جاتے تھے تو اس قیدی کو استعمال کر کے اور کمیشن دے کر اس سے منی لانڈرنگ کروائی جاتی تھی، جبکہ اسکو ایک عربی بھی ملوایا گیا جو اس قیدی کو بتا کر کبھی جدہ کے اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کرواتا تھا اور کبھی کیش بھی لیجایا جاتا تھا.

انہوں نے کہا کہ اس قیدی کو ایک دفعہ 16 لاکھ پاؤنڈ بھیجا گیا تو اس نے عربی کو کہا کہ میرے پاس 16 لاکھ پاؤنڈز آچکے ہیں انکا کیا کرنا ہے؟ عربی نے کہا کہ میں لندن سے باہر ہوں 2 سے 3 روز تک واپس آ کر پھر بتاؤں گا کہ انہیں کس اکاؤنٹ میں بھیجنا ہے، اسی اثنا میں اس شخص کے فلیٹ پر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا چھاپہ پڑ جاتا ہے اور اس شخص کو پیسوں کو ساتھ گرفتار کر لیا جاتا ہے اور اسے لندن میں 7 سال قید کی سزا سنا دی جاتی ہے.دوران قید اسکا رویہ دیکھ کر 4 سال بعد اسے ضمانت پر رہا کر دیا جاتا ہے، یہی وہ وقت تھا جب اسکا بُرا ٹائم شروع ہوجاتا ہے اور وہ بیوقوفی کر کے واپس پاکستان پہنچ جاتا ہے. انہوں نے کہا کہ میں اس ایوان کے تقدس کو مد نظر رکھتے ہوئے حلفاً یہ کہتا ہوں کہ نواز شریف جتنی دفعہ بھی بہاولپور گئے ہیں ( وہ شخص جو لندن میں قید ہوا تھا) اسی کے ہاں رکتے تھے اورنواز شریف کو ہوٹل کے بِل تک وہی شخص ادا کرتا رہا ہے. انہوں نے کہا کہ سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد ملک میں قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح متحرک ہوکر ملک کے کونے کونے سے دہشتگردوں اور وانٹڈ افراد کو ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں اسی اثنا میں لندن سے ایک فہرست آتی ہے کہ ہم اس پاکستانی شخص (جو نواز شریف کو سارے خرچے اٹھاتا ہے) کو تلاش کر رہے ہیں کیونکہ یہ ضمانت پر رہا ہوا تھا اور ملک سے فرار ہوگیا تھا، پھر اس شخص کو اٹھا کر اڈایالہ جیل ڈال دیا جاتا ہے. طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ اس قیدی نے 150 صفحوں پر مشتمل ثبوت اپنی بیوی کے ذریعے مجھے بھجوائے ہیں اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان سے درخواست کی جائے کہ مجھے منی لانڈرنگ کیسز اور پاناما کیس میں بطور گواہ شامل کیا جائے. انکا کہنا تھا کہ ایوان میں آکر تو تمام کاغذات دکھائے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے یہ ہمارے بیرون ملک کاروباروں کی تمام دستاویزی ثبوت ہیں جبکہ وہی ثبوت سپریم کورٹ میں پیش نہیں کیے جاتے ایسا کیوں ہے؟ ایسا کب تک چلتا رہے گا؟ کب تک حکمران اس ملک کی عوام کو بیوقوف بناتے رہے گے ؟ انکا کہنا تھا کہ کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرنی ہوگی، بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پر رہا ہے کہ یہ کہتے ہیں 2006 ء میں ہمارے مراسم قطری خاندان اور دیگر لوگوں قائم ہوئے تھے لیکن اگر کوئی چاہے تو میں حقائق سے پردہ اٹھاؤں گا، وزیر داخلہ صاحب کو کہے اگر انکے پاس ٹائم ہے تو میرے ساتھ الگ کمرے میں بیٹھیں انکو بھی اس شخص اور اسکے قصور کے بارے میں بتاتا ہوں اور اگر ضرورت پڑھی تو سپریم کورٹ کو بھی حقائق سے آگاہ کروں گا. انہوں نے اور کیا کہا ویڈیو دیکھیں

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top